کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ دن جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا “
حدیث نمبر: 11446
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ يَوْمًا يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا السَّمَاءُ ) قَالَ : " ذَلِكَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ ، وَذَلِكَ يَوْمُ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِآدَمَ : قُمْ فَابْعَثْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ ، فَقَالَ : مِنْ كَمْ يَا رَبِّ ؟ فَقَالَ : مِنْ أَلْفٍ وَتِسْعِ مِائَةٍ وَتِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ وَيَنْجُو وَاحِدٌ " . فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَعَرَفَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَبْصَرَ ذَلِكَ فِي وُجُوهِهِمْ : " إِنَّ بَنِي آدَمَ كَثِيرٌ ، وَإِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِنْ أَوْلَادِ آدَمَ ، وَإِنَّهُ لَا يَمُوتُ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى يَرِثَهُ [ لِصُلْبِهِ ] أَلْفُ رَجُلٍ ، فَفِيهِمْ وَفِي أَشْبَاهِهِمْ جُنَّةٌ لَكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” وہ دن ، جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا ( اور ) آسمان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ قیامت کا دن ہے ، جس دن میں اللہ تعالٰی سیدنا آدم علیہ السلام سے یہ فرمائے گا : تم اُٹھو اور اپنی اولاد میں سے مخصوص لوگوں کو جہنم کی طرف بھیج دو ، وہ عرض کریں گے : اے میرے پروردگار ! کتنے میں سے ( کتنے لوگوں کو ) تو پروردگار فرمائے گا : ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے افراد کو جہنم میں بھیج دو اور ایک آدمی نجات پائے گا ، یہ بات مسلمانوں پر گراں گزری ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ چیز محسوس کر لی ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہروں پر یہ چیز ملاحظہ فرمائی ، تو یہ ارشاد فرمایا : ” اولاد آدم بہت زیادہ ہو گی اور یاجوج ماجوج بھی اولاد آدم میں سے ہوں گے اور ان میں سے کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک اس کی سگی اولاد میں سے ایک ہزار لوگ اس کے وارث نہیں بنیں گے ، تو ان لوگوں اور ان جیسے لوگوں میں تمہارے لئے ڈھال ہے ( یعنی وہ جہنم میں جائیں گے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔