کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت ’ ن ، کا بیان
حدیث نمبر: 11434
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللَّهُ الْقَلَمُ وَالْحُوتُ . قَالَ : مَا أَكْتُبُ ؟ قَالَ : كُلَّ شَيْءٍ كَائِنٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ثُمَّ قَرَأَ " ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ " الْقَلَمِ فَالنُّونُ : الْحُوتُ ، وَالْقَلَمُ : الْقَلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْفَعْهُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قُلْتُ : وَمُؤَمَّلُ ثِقَةٌ كَثِيرُ الْخَطَأِ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم اور مچھلی کو پیدا کیا ، قلم نے دریافت کیا : میں کیا لکھوں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہر وہ چیز جو قیامت کے دن تک ہو گی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” ن ، اور قلم کی قسم ہے ، اور جو وہ ( فرشتے ) لکھتے ہیں“ ۔ تو ’ ن ، سے مراد ، مچھلی ہے اور قلم سے مراد قلم ہے ۔

یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں حماد بن زید کے حوالے سے اس روایت کو مرفوع حدیث کے طور پر صرف مؤمل بن اسماعیل نے نقل کیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں مؤمل نامی راوی ثقہ ہے لیکن بکثرت غلطیاں کرتا ہے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11434
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1227)»