کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت جمعہ کا بیان
حدیث نمبر: 11417
عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : لَوْ قَرَأْتُهَا " فَاسْعَوْا " سَعَيْتُ حَتَّى يَسْقُطَ رِدَائِي . وَكَانَ يَقْرَؤُهَا ( فَامْضُوا ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” جب جمعہ کے دن نماز کے لئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف جلدی سے جاؤ “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر میں اس آیت کو یوں پڑھوں کہ تم دوڑ کے جاؤ تو میں اتنا تیزی سے چل کے جاؤں گا کہ میری چادر گر جائے گی راوی کہتے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ الفاظ پڑھتے تھے : ” تم جاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11417
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9539)»
حدیث نمبر: 11418
وَعَنْ قَتَادَةَ قَالَ : فِي جُزْءِ ابْنِ مَسْعُودٍ - فَامْضُوا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ - وَهُوَ كَقَوْلِهِ إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّى . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَقَتَادَةُ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قتادہ بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے جزء میں یہ الفاظ ہیں : اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ “ ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مانند ہے : ” بے شک تمہاری کوشش مختلف قسم کی ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور قتادہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے تا ہم اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11418
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9540)»
حدیث نمبر: 11419
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَدِمَ دِحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ يَبِيعُ سِلْعَةً لَهُ ، فَمَا بَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ أَحَدٌ إِلَّا خَرَجَ إِلَّا نَفَرٌ ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا - الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اسی دوران دحیہ بن خلیفہ اپنا سامان فروخت کرنے کے لئے ( منڈی میں ) آ گیا تو مسجد میں موجود افراد چلے گئے صرف کچھ افراد باقی رہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( خطبہ دینے کے لئے ) کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جب انہوں نے تجارت اور دلچسپی کی چیز دیکھی ، تو اس کی طرف جلدی سے چلے گئے اور تمہیں قیام کی حالت میں چھوڑ گئے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11419
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه البزار فى المسند (2273)»