کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت حشر کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم نے کھجور کے جو بھی درخت کاٹے “
حدیث نمبر: 11409
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : رَخَّصَ فِي قَطْعِ النَّخْلِ ، ثُمَّ شَدَّدَ عَلَيْهِمْ ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلَيْنَا إِثْمٌ فِيمَا قَطَعْنَا أَوْ فِيمَا تَرَكْنَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ سُفْيَانَ بْنِ وَكِيعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے درخت کاٹنے کی اجازت دی اور اس حوالے سے انہیں ( نہ کاٹنے کی ) سخت تاکید کی ، لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے جو درخت کاٹے ہیں ، کیا ان کے حوالے سے ہمیں گناہ ہو گا ، یا جو چھوڑ دیے ہیں ، اُن کے حوالے سے گناہ ہو گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تم نے جو بھی کھجور کے درخت کاٹے ہیں ، یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا ہوا چھوڑ دیا ہے ، تو یہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے ساتھ ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد سفیان بن وکیع کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11409
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2189)»