کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت رحمن کا بیان ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تم اپنے پروردگار کی کون ، کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “
حدیث نمبر: 11387
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَرَأَ سُورَةَ الرَّحْمَنِ عَلَى أَصْحَابِهِ فَسَكَتُوا ، فَقَالَ : " لَقَدْ كَانَ الْجِنُّ أَحْسَنَ رَدًّا مِنْكُمْ ، كُلَّمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِمْ فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ قَالُوا : لَا بِشَيْءٍ مِنْ آلَائِكَ رَبَّنَا نُكَذِّبُ فَلَكَ الْحَمْدُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الرَّاسِبِيِّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے سامنے سورت رحمن تلاوت کی ، وہ لوگ خاموش رہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کی بہ نسبت جنات نے زیادہ اچھا رد عمل دیا تھا ، میں نے اُن کے سامنے جب بھی یہ آیت تلاوت کی : ” اور تم اپنے پروردگار کی کون ، کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “ ۔ تو انہوں نے یہی کہا: اے ہمارے پروردگار ! ہم تیری نعمتوں میں سے کوئی چیز نہیں جھٹلا سکتے اور ہر طرح کی حمد ، تیرے لئے مخصوص ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمرو بن مالک راسبی کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2269)»