کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ نابینا لوگوں پر کوئی حرج نہیں ہے “
حدیث نمبر: 11345
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ أَكْتُبُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي لَوَاضِعٌ الْقَلَمَ عَلَى أُذُنِي إِذْ أَمَرَ بِالْقِتَالِ ، إِذْ جَاءَ أَعْمَى فَقَالَ : كَيْفَ بِي وَأَنَا ذَاهِبُ الْبَصَرِ ؟ فَنَزَلَتْ لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ السُّحَيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ( قرآن مجید کی ) کتابت کرتا تھا اور میں نے اپنا قلم اپنے کان پر رکھا ہوا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد ( کے حکم سے متعلق آیت تحریر کرنے ) کا حکم دیا ، اُسی دوران ایک نابینا شخص آیا ، اس نے عرض کی : میرا کیا بنے گا ؟ جبکہ میری بینائی رخصت ہو چکی ہے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” نابینا شخص پر کوئی حرج نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر سحیمی ہے اور وہ ضعیف ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11345
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4926)»