کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور بے شک وہ قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانی ہو گا “
حدیث نمبر: 11331
عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى ابْنِ عَقِيلٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : لَقَدْ عَلِمْتُ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ مَا سَأَلَنِي عَنْهَا أَحَدٌ قَطُّ ، فَمَا أَدْرِي أَعَلِمَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا ، أَوْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا فَيَسْأَلُوا عَنْهَا ، ثُمَّ طَفِقَ يُحَدِّثُنَا ، فَلَمَّا قَامَ تَلَاوَمْنَا أَلَّا سَأَلْنَاهُ عَنْهَا قَالَ : فَقُلْتُ : أَنَا لَهَا إِذَا رَاحَ غَدًا . فَلَمَّا رَاحَ الْغَدَ قُلْتُ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، ذَكَرْتَ أَمْسِ أَنَّ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ لَمْ يَسْأَلْكَ عَنْهَا رَجُلٌ قَطُّ ، فَلَا تَدْرِي عَلِمَهَا النَّاسُ فَلَمْ يَسْأَلُوا عَنْهَا ، أَوْ لَمْ يَفْطِنُوا لَهَا ، أَخْبِرْنِي عَنْهَا . قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِقُرَيْشٍ : " إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ فِيهِ خَيْرٌ " . وَقَدْ عَلِمَتْ قُرَيْشٌ أَنَّ النَّصَارَى تَعْبُدُ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ وَمَا يَقُولُ مُحَمَّدٌ ، فَقَالُوا : يَا مُحَمَّدُ ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ كَانَ نَبِيًّا وَعَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ صَالِحًا ، فَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَإِنَّ آلِهَتَهُمْ لَكَمَا يَقُولُونَ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ قُلْتُ : مَا يَصُدُّونَ ؟ قَالَ : يَضِجُّونَ وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ قَالَ : خُرُوجُ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَإِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَإِنَّهُ لَكَآلِهَتِهِمْ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابویحیی ، جو ابن عقیل انصاری کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں قرآن کی ایک آیت کے بارے میں جانتا ہوں جس کے بارے میں ، کبھی مجھ سے کسی نے نہیں دریافت نہیں کیا ، مجھے نہیں معلوم ، کہ کیا لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ ہے ، اور انہوں نے اس وجہ سے اس بارے میں دریافت نہیں کیا ؟ یا پھر لوگوں کو اس کی سمجھ ہی نہیں آئی کہ وہ اس کے بارے میں دریافت کرتے ، پھر اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمارے ساتھ بات چیت شروع کر دی ، جب وہ اُٹھ کے چلے گئے ، تو ہم نے ایک دوسرے کو ملامت کی کہ ہم نے اُن سے اُس آیت کے بارے میں کیوں نہیں دریافت کیا ، پھر میں نے یہ سوچا کہ کل جب وہ آئیں گے ، تو میں اس حوالے سے کوشش کروں گا ، جب اگلے دن وہ شریف لائے ، تو میں نے کہا: اے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ! آپ نے کل قرآن کی ایک آیت کا ذکر کیا تھا ، جس کے بارے میں آپ سے کبھی کسی شخص نے دریافت نہیں کیا ، تو آپ کو یہ نہیں معلوم ، کہ کیا لوگوں کو اس آیت کا علم ہے اور انہوں نے اس وجہ سے اُس کے بارے میں دریافت نہیں کیا ، یا لوگوں کو اُس کی سمجھ ہی نہیں ہے ؟ تو آپ مجھے اُس آیت کے بارے میں بتائیں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے علاوہ ، جس کسی کی بھی عبادت کی جاتی ہے ، اُن میں سے کسی میں کوئی بھلائی نہیں ہے “ ۔ قریش یہ بات جانتے تھے کہ عیسائی سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ( سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ) جو کہتے تھے ، ( اس کا بھی قریش کو علم تھا ) تو قریش نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا آپ کا یہ نہیں کہنا کہ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نہیں ہیں ، اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک بندے ہیں ، اگر آپ سچے ہیں ، تو اُن کے معبود بھی اُسی طرح ہونے چاہیں ، جس طرح وہ لوگ کہتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی ، تو تمہاری قوم کے لوگ اس سے ، ہنسنے لگتے ہیں “ رادی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : لفظ ” یصدون “ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یعنی وہ چیخ و پکار کرتے ہیں ۔ ” اور بے شک وہ قیامت ( قریب ہونے ) کی نشانی ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : قیامت کے دن سے پہلے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تشریف لائیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر آپ سچے ہیں ، تو پھر تو یہ ان کے معبودوں کی مانند ہوں گے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، یہ خراب حافظے کا مالک ہے امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11331
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12740) اخرجه احمد فى المسند (2921)»