کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم یہ فرما دو ! میں اس پر تم سے معاوضہ نہیں مانگتا ، صرف رشتہ داری کی محبت چاہتا ہوں “
حدیث نمبر: 11325
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ( قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ ) عَلَى مَا أَتَيْتُكُمْ بِهِ مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى ( أَجْرًا إِلَّا ) أَنْ تُوَادُّوا اللَّهَ وَأَنْ تَقَرَّبُوا إِلَى اللَّهِ بِطَاعَتِهِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ فِيهِمْ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا : ” تم یہ فرما دو ! میں اس پر تم سے نہیں مانگتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یعنی میں تمہارے پاس جو نشانیاں اور ہدایت لے کے آیا ہوں ، البتہ صرف یہ ( چاہتا ہوں کہ ) کہ تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو ، اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کے ذریعے اُس کی بارگاہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال میں سے ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال میں سے ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11326
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ قَرَابَتُكَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّتُهُمْ ؟ قَالَ : " عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَابْنَاهُمَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ حَرْبِ بْنِ الْحَسَنِ الطَّحَّانِ عَنْ حُسَيْنٍ الْأَشْقَرِ عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ وَقَدْ وُثِّقُوا كُلُّهُمْ وَضَعَّفَهُمْ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” تم یہ فرما دو ! میں اس پر تم سے معاوضہ نہیں مانگتا ، البتہ رشتہ داری کے حوالے سے محبت ( چاہتا ہوں ) “ ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے یہ رشتہ دار کون ہیں ؟ جن کے ساتھ محبت رکھنا ہم پر واجب ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : علی ، فاطمہ ، اور اُن دونوں کے ، دونوں بیٹے ( یعنی سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے حرب بن حسن طحان کی ، حسین اشقر کے حوالے سے ، قیس بن ربیع سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، ان سب کی توثیق کی گئی ہے اور ایک جماعت نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے حرب بن حسن طحان کی ، حسین اشقر کے حوالے سے ، قیس بن ربیع سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، ان سب کی توثیق کی گئی ہے اور ایک جماعت نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11327
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَتِ الْأَنْصَارُ فِيمَا بَيْنَهُمْ : لَوْ جَمَعْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَالًا فَبَسَطَ يَدَهُ لَا يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ أَحَدٌ . فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَرَدْنَا أَنْ نَجْمَعَ لَكَ مِنْ أَمْوَالِنَا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى فَخَرَجُوا مُخْتَلِفِينَ ، [ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] فَقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا قَالَ هَذَا لِنُقَاتِلَ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ وَنَنْصُرَهُمْ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ - أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا إِلَى قَوْلِهِ وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ فَعَرَضَ لَهُمُ [ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] التَّوْبَةَ إِلَى قَوْلِهِ وَيَسْتَجِيبُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَزَادَ بَعْدَ ( مِنْ فَضْلِهِ ) : هُمُ الَّذِينَ قَالُوا هَذَا : إِنْ تَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ وَتَسْتَغْفِرُوهُ ، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ أَبُو الْيَقْظَانِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انصار نے آپس میں یہ بات کی کہ اگر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مال اکٹھا کریں تو ( یہ مناسب ہو گا تاکہ ) جب آپ ہاتھ بڑھائیں ، تو آپ کے اور مال کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ ہو ، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے یہ ارادہ کیا ہے کہ آپ کے لئے اپنے اموال جمع کریں ، تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ” تم یہ فرما دو ! میں اس حوالے سے تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ، البتہ رشتہ داری کے حوالے سے محبت ( چاہتا ہوں ) “ ۔ تو وہ لوگ مختلف گروہوں کی شکل میں نکلے ، تو ان میں سے کسی نے کہا: کیا تم نے اس بات کا جائزہ لیا ہے ؟ جو بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے ، تو کسی نے کہا: آپ نے یہ بات اس لئے ارشاد فرمائی ہے ، تاکہ ہم آپ کے اہل بیت کی طرف سے لڑائی کریں اور ان لوگوں کی مدد کریں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” کیا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اُس نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور وہی وہ ذات ہے ، جو اپنے بندوں کی ، توبہ کو قبول کرتا ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن لوگوں کے سامنے توبہ پیش کی ، یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور وہ اُن لوگوں کی دعائیں قبول کرتا ہے ، جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ، اور انہیں اپنے فضل سے مزید عطا کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں ” اپنے فضل سے “ کے بعد یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” یہی وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے یہ کہا: تھا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر ابویقظان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں ” اپنے فضل سے “ کے بعد یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” یہی وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے یہ کہا: تھا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو اور اس سے مغفرت طلب کرو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عثمان بن عمیر ابویقظان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔