کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: سورت حم عسق کا بیان
حدیث نمبر: 11323
عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : حم عسق فَقَالَ : " يَا مَيْمُونَةُ ، [ أَتَقْرَئِينَ ( حم عسق ) ] لَقَدْ نَسِيتُ مَا بَيْنَ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا " . قَالَتْ : فَقَرَأْتُهَا ، فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی : ” حم عسق “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے میمونہ ! کیا تم نے ” حم عسق “ یاد کی ہوئی ہے ؟ مجھے یہ شروع سے لے کر آخر تک بھلا دی گئی ہے ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں : میں نے اُسے پڑھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے پڑھ لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن عبدوس کا معاملہ مختلف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11323
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 11324
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنَّا نَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَاتِ تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ . هَكَذَا وَجَدْتُهُ مِنْ غَيْرِ ضَبْطٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم یہ آیت پڑھا کرتے تھے : ” قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر کی طرف سے پھٹ جائیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے ضبط کے بغیر
یہ روایت اس طرح پائی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11324
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12889)»