کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے نبی ! بے شک ہم نے تمہیں گواہ بنا کر بھیجا ہے “
حدیث نمبر: 11277
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : ( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ) دَعَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيًّا - رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ - وَمُعَاذًا ، وَقَدْ كَانَ أَمَرَهُمَا أَنْ يَخْرُجَا إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " انْطَلِقَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا ، وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا ، فَإِنَّهُ قَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ : ( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا ) [ عَلَى أُمَّتِكَ ] ( وَمُبَشِّرًا ) بِالْجَنَّةِ ( وَنَذِيرًا ) مِنَ النَّارِ ( وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ ) إِلَى شِهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ( بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا ) بِالْقُرْآنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اے نبی ! بے شک ہم نے تمہیں گواہ اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو بلوایا ، آپ نے ان دونوں حضرات کو یہ حکم دیا کہ وہ دونوں یمن چلے جائیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” تم دونوں روانہ ہو جاؤ ! تم دونوں خوشخبری سنانا ، تم دونوں متنفر نہ کرنا ، تم دونوں آسانی فراہم کرنا ، تم دونوں تنگی کا شکار نہ کرنا ، کیونکہ مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے : ” اے نبی ! بے شک ہم نے تمہیں گواہ بنا کر بھیجا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ یعنی تم اپنی امت کے بارے میں گواہ ہو ۔ ” خوشخبری سنانے والا “ ۔ یعنی جنت کے بارے میں ۔ ” اور ڈرانے والا “ ۔ یعنی جہنم سے ۔ ” اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والا “ ۔ یعنی اس بات کی گواہی دینے کی طرف دعوت دینے والا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ ” اس کے حکم کے ساتھ اور روشن چراغ بنا کر بھیجا “ ۔ یہاں حکم کے ساتھ ، سے مراد قرآن کے ساتھ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔