کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک جس نے تم پر قرآن نازل کیا ہے ، وہ تمہیں لوٹنے کی جگہ کی طرف واپس کر دے گا “
حدیث نمبر: 11256
عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ قَالَ : مَعَادُهُ آخِرَتُهُ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امام باقر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک وہ ذات ، جس نے تم پر قرآن نازل کیا ہے ، وہ تمہیں لوٹنے کی جگہ کی طرف ، واپس کر دے گا “ تو سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ کے لوٹنے کی جگہ سے مراد ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخرت ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11257
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ قَالَ : مَعَادُكَ إِلَى الْجَنَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک وہ ذات ، جس نے تم پر قرآن نازل کیا ہے ، وہ تمہیں لوٹنے کی جگہ کی طرف ، واپس کر دے گا “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ( اس سے مراد یہ ہے کہ ) تمہارے لوٹنے کی جگہ ” جنت “ ہے ۔
حدیث نمبر: 11258
وَفِي رِوَايَةٍ : إِلَى مَعَادٍ قَالَ : الْمَوْتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ خُصَيْفٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” لوٹنے کی جگہ “ سے مراد ، موت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف خصیف کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف خصیف کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔