کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں “
حدیث نمبر: 11194
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْأَنْصَارِ : أَهَكَذَا أُنْزِلَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا تَلُمْهُ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ غَيُورٌ ، وَاللَّهِ مَا تَزَوَّجَ امْرَأَةً قَطُّ إِلَّا بِكْرًا ، وَلَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ قَطُّ فَاجْتَرَأَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَى أَنْ يَتَزَوَّجَهَا مِنْ شِدَّةِ غَيْرَتِهِ . فَقَالَ سَعْدٌ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا حَقٌّ ، وَأَنَّهَا مِنَ اللَّهِ ، وَلَكِنِّي تَعَجَّبْتُ أَنْ لَوْ وَجَدْتُ لَكَاعًا قَدْ تَفَخَّذَهَا رَجُلٌ لَمْ يَكُنْ لِي أَنْ أُهَيِّجَهُ وَلَا أُحَرِّكَهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ، وَاللَّهِ لَا آتِي بِهِمْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” وہ لوگ جو پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں ، اور پھر چار گواہ نہیں لے کر آتے تو تم انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرنا “ ۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ جو انصار کے سردار تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ اسی طرح نازل ہوئی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے انصار کے گروہ کیا تم سن نہیں رہے ہو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں کچھ نہ کہیں کیونکہ یہ ایک تیز مزاج کے شخص ہیں اللہ کی قسم ! انہوں نے ہمیشہ کسی کنواری خاتون کے ساتھ ہی شادی کی ہے ، اور جب بھی انہوں نے اپنی کسی اہلیہ کو طلاق دی تو ہم میں سے کسی شخص کی یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس خاتون کے ساتھ شادی کرے اس کی وجہ ان کے مزاج کی شدت ہے ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں یہ بات جانتا ہوں کہ یہ بات حق ہے ، اور یہ اللہ کی طرف سے ہے لیکن مجھے اس بات پر حیرت ہوئی کہ اگر میں کسی شخص کو پاتا ہوں کہ وہ میری بیوی کے پاس پہنچ چکا ہے ، اور پھر میں اسے قتل بھی نہیں کر سکتا پہلے مجھے چار گواہ لانے پڑیں گے اللہ کی قسم ! جب تک میں گواہ ڈھونڈ کے لاؤں گا اتنی دیر میں وہ اپنا کام پورا کر چکا ہو گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11194
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (238/1)»