کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تکبر کرتے ہوئے اس بارے میں گفتگو کرتے تھے “
حدیث نمبر: 11190
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ : مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تَهْجُرُونَ قَالَ : كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَهْجُرُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي شِعْرِهِمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : فِي رِوَايَةِ ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ عَنْهُ مَنَاكِيرُ ، قُلْتُ : وَهَذَا مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ یہ آیت تلاوت کرتے تھے : ” تم لوگ تکبر کرتے ہوئے اس کے بارے میں رات کے وقت بے ہودہ گفتگو کیا کرتے تھے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مشرکین اپنے اشعار میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف فضول گفتگو کیا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحییٰ بن سلمہ بن کہیل ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں : اس کے بیٹے ابراہیم نے اس سے منکر روایات نقل کی ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت بھی ان میں سے ایک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11190
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11089)»