کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو لوگ وہ دیتے ہیں جو وہ دے سکتے ہیں “
حدیث نمبر: 11189
عَنْ أَبِي خَلَفٍ مَوْلَى بَنِي جُمَعٍ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ فِي سَقِيفَةِ زَمْزَمَ ، وَلَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ ظِلٌّ غَيْرَهَا ، فَقَالَتْ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَبِي عَاصِمٍ - يَعْنِي عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ - مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَزُورَنَا أَوْ تُلِمَّ بِنَا ؟ قَالَ : أَخْشَى أَنْ أُمِلَّكِ ، قَالَتْ : مَا كُنْتَ لِتَفْعَلَ ، قَالَ : جِئْتُ أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَؤُهَا ؟ قَالَتْ : أَيَّةُ آيَةٍ ؟ قَالَ : الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا أَوِ الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا ؟ قَالَتْ : أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ فَقُلْتُ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَحَدُهُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا أَوِ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا . قَالَتْ : أَيَّتُهُمَا ؟ قَالَ : الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا أَتَوْا قَالَتْ : أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَذَلِكَ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ . أَوْ قَالَتْ : لَكَذَلِكَ أُنْزِلَتْ ، وَكَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَؤُهَا ، وَلَكِنَّ الْهِجَاءَ حَرْفٌ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوخلف ، جو بنوجمع کے آزاد کردہ غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : وہ عبید بن عمیر کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں زمزم کے چبوترے کے پاس حاضر ہوئے اس کے علاوہ مسجد میں کوئی سایہ والی جگہ نہیں تھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے ابوعاصم یعنی انہوں نے عبید بن عمر سے یہ کہا: تمہیں خوش آمدید ہے تم ہم سے ملنے کے لئے کیوں نہیں آئے یا پھر تم ہم سے ناراض ہو ؟ انہوں نے عرض کی : مجھے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں میں آپ کو اکتاہٹ کا شکار نہ کر دوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم ایسے نہیں ہو عبید بن عمیر نے عرض کی : میں آپ کے پاس ایک آیت کے سلسلے میں پوچھنے کے لئے حاضر ہوا ہوں جو اللہ کی کتاب میں موجود ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کیسے تلاوت کرتے تھے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کون سی آیت ہے ؟ انہوں نے یہ آیت پڑھی : ﴿( الَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا )﴾ یہ الفاظ یہ ہیں یا یہ ہیں : ﴿الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا آتَوُا﴾ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا : تمہارے نزدیک ان دونوں میں کون سا زیادہ بہتر ہے ؟ میں نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں ، میری جان ہے ان دونوں میں سے ایک میرے نزدیک دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ان دونوں میں سے کون سا ؟ انہوں نے کہا: یہ کلمات : ﴿الَّذِينَ يَأْتُونَ مَا آتَوُا﴾ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھا کرتے تھے اور یہ اسی طرح نازل ہوئی تھی ۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ اسی طرح نازل ہوئی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسی طرح پڑھا کرتے تھے ، لیکن ہجاء حرف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11189
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (95/6)»