کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو شخص میرے ذکر سے منہ موڑے گا ، تو اس کے لئے تنگی والی دنیاوی زندگی ہو گی “
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : ( فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا ) قَالَ : " الْمَعِيشَةُ الضَّنْكُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنَّهُ يُسَلِّطُ عَلَيْهِ تِسْعًا وَتِسْعِينَ حَيَّةً يَنْهَشُونَ لَحْمَهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تو اس کے لئے تنگی والی زندگی ہو گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تنگی والی زندگی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اس سے مراد یہ ہے : اس پر نانوے سانپ مسلط کیے جائیں گے جو قیامت قائم ہونے تک اس کے گوشت کو نوچتے رہیں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11170
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2233)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا قَالَ : عَذَابُ الْقَبْرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اس کے لئے تنگی والی زندگی ہو گی “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس سے مراد قبر کا عذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11171
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9143)»