مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو شخص میرے ذکر سے منہ موڑے گا ، تو اس کے لئے تنگی والی دنیاوی زندگی ہو گی “
حدیث نمبر: 11170
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : ( فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا ) قَالَ : " الْمَعِيشَةُ الضَّنْكُ الَّتِي قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنَّهُ يُسَلِّطُ عَلَيْهِ تِسْعًا وَتِسْعِينَ حَيَّةً يَنْهَشُونَ لَحْمَهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تو اس کے لئے تنگی والی زندگی ہو گی “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تنگی والی زندگی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے اس سے مراد یہ ہے : اس پر نانوے سانپ مسلط کیے جائیں گے جو قیامت قائم ہونے تک اس کے گوشت کو نوچتے رہیں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔