کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ ہم نے قرآن تم پر اس لئے نازل نہیں کیا تاکہ تم مشقت کا شکار ہو جاؤ “
حدیث نمبر: 11165
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرَاوِحُ بَيْنَ قَدَمَيْهِ ، يَقُومُ عَلَى كُلِّ رِجْلٍ حَتَّى نَزَلَتْ مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَى . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ بِلَالٍ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ ، وَكَيْسَانُ أَبُو عَمْرٍو وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں قدموں کو باری باری آرام دیا کرتے تھے اور ہر ایک قدم پر کھڑے ہو جاتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : ” طہ “ ہم نے تم پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا تاکہ تم مشقت کا شکار ہو جاؤ“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن بلال ہے امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ایک راوی کیسان ابوعمرو ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن بلال ہے امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ایک راوی کیسان ابوعمرو ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور یحییٰ بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔