حدیث نمبر: 11163
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ قَرَأَ : طه وَ يس قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ آدَمَ بِأَلْفِ عَامٍ ، فَلَمَّا سَمِعَتِ الْمَلَائِكَةُ الْقُرْآنَ قَالُوا : طُوبَى لِأُمَّةٍ يَنْزِلُ هَذَا عَلَيْهَا ، وَطُوبَى لِأَجْوَافٍ تَحْمِلُ هَذَا ، وَطُوبَى لِأَلْسُنٍ تَكَلَّمُ بِهَذَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے سورت طلہ اور سورت یسین سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ایک ہزار سال پہلے پڑھی جب فرشتوں نے قرآن سنا ، تو انہوں نے کہا: اس امت کو مبارک باد ، جس پر یہ نازل ہو گی ان ذہنوں کے لئے مبارک باد ہے جن میں ان کا علم آئے گا اور ان زبانوں کے لئے مبارک باد ہے جو ان کو پڑھیں گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مہاجر بن مسمار ہے ، جسے اس حدیث کے حوالے سے امام بخاری رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یحییٰ بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مہاجر بن مسمار ہے ، جسے اس حدیث کے حوالے سے امام بخاری رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور یحییٰ بن معین نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 11164
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : طه قَالَ : يَا رَجُلُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ النَّيْسَابُورِيِّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ” طہ “ کے بارے میں یہ کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : اے شخص !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن معاویہ نیشا پوری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن معاویہ نیشا پوری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔