کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور انہوں نے معمولی قیمت کے عوض میں اسے فروخت کر دیا “
حدیث نمبر: 11085
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ مَا اشْتُرِيَ بِهِ يُوسُفُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، وَكَانَ أَهْلُهُ حِينَ أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ بِمِصْرَ ثَلَاثَةً وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا ، رِجَالُهُمْ أَنْبِيَاءُ وَنِسَاؤُهُمْ صِدِّيقَاتٌ ، وَاللَّهِ مَا خَرَجُوا مَعَ مُوسَى حَتَّى بَلَغُوا سِتَّمِائَةِ أَلْفٍ وَسَبْعِينَ أَلْفًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا یوسف علیہ السلام رضی اللہ عنہ کو بیس درہم کے عوض میں فروخت کیا گیا تھا اور جب ان کے اہل خانہ کو ان کی طرف بھجوایا گیا جب وہ لوگ مصر میں تھے ، تو ان کی تعداد ۹۳ تھی ان کے مرد انبیاء تھے اور ان کی خواتین صدیقات تھیں اور اللہ کی قسم ! جب وہ لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ( مصر سے نکلے ) اس وقت ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار ہو چکی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11085
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9068)»