کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ ( فرعون نے کہا : ) میں ایمان لاتا ہوں کہ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں “
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَالَ لِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - مَا كَانَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ شَيْءٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْ فِرْعَوْنَ ، فَلَمَّا آمَنَ جَعَلْتُ أَحْشُو فَاهُ حَمْأَةً خَشْيَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جبرائیل نے مجھے بتایا کہ روئے زمین پر میرے نزدیک فرعون سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی نہیں تھا جب وہ ایمان لانے لگا ، تو میں اس کے منہ میں گارا ٹھونسنے لگا کہ کہیں رحمت اس تک نہ پہنچ جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : أُخْبِرْتُ أَنَّ فِرْعَوْنَ كَانَ أَثْرَمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ يَحْيَى ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ فرعون کے سامنے کے دانت نہیں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن یحیی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن یحیی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔