کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک ابراہیم ’’ اواہ “ تھا “
حدیث نمبر: 11059
عَنْ زِرٍّ قَالَ : سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَنِ الْأَوَّاهِ ، قَالَ : الدَّعَّاءُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَاصِمٌ وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَقَدْ ضُعِّفَ . ¤
محمد محی الدین
زربیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے لفظ ” اواہ “ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : بہت زیادہ دعا کرنے والا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ویسے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم ہے ، اور وہ ثقہ ہے ویسے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 11060
وَعَنْ أَبِي الْعُبَيْدَيْنِ الْعَامِرِيِّ ، وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُدْنِيهِ ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ : مَنْ نَسْأَلُ إِذَا لَمْ نَسْأَلْكَ ؟ فَرَقَّ لَهُ فَقَالَ : مَا الْأَوَّاهُ ؟ قَالَ : الرَّحِيمُ . قَالَ : فَمَا الْأُمَّةُ ؟ قَالَ : الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ . قَالَ : فَمَا الْقَانِتُ ؟ . قَالَ : الْمُطِيعُ . قَالَ : فَمَا الْمَاعُونُ ؟ قَالَ : مَا يَتَعَاوَنُ النَّاسُ بَيْنَهُمْ . قَالَ : فَمَا التَّبْذِيرُ ؟ قَالَ : إِنْفَاقُ الْمَالِ فِي غَيْرِ حَقِّهِ ، وَفِي رِوَايَةٍ : فِي غَيْرِ حِلِّهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبیدین عامری ، جن کی بینائی کمزور ہو چکی تھی اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہیں اپنے قریب رکھتے تھے ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر ہم آپ سے نہیں پوچھیں گے ، تو کس سے پوچھیں گے ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں نرمی محسوس ہوئی انہوں نے دریافت کیا : اواہ سے مراد کیا ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا رحم دل ، انہوں نے دریافت کیا : امت سے کیا مراد ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دے انہوں نے دریافت کیا : قانت سے کیا مراد ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : فرمانبردار انہوں نے دریافت کیا لفظ ماعون سے کیا مراد ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ کہ لوگ باہمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں انہوں نے دریافت کیا تبذیر سے کیا مراد ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مال کو ناحق طور پر خرچ کرنا ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : مال کو ناجائز طور پر خرچ کرنا ۔
حدیث نمبر: 11061
وَفِي رِوَايَةٍ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ النَّاسَ كُلَّ يَوْمٍ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْخَمِيسِ انْتَابَهُ النَّاسُ مِنَ الرَّسَاتِيقِ وَالْقُرَى ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ أَعْمَى ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ . رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے جب جمعرات کا دن آتا تھا ، تو مختلف علاقوں اور مسجدوں سے لوگ ان کے پاس آ جاتے تھے ایک مرتبہ ایک نابینا شخص ان کے پاس آیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں پہلی دو روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔