کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی “
حدیث نمبر: 11054
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : اخْتَلَفَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : هُوَ مَسْجِدُ الرَّسُولِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ الْآخَرُ : هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ . فَأَتَيَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَسَأَلَاهُ ، فَقَالَ : " هُوَ مَسْجِدِي هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کے بارے میں اختلاف ہو گیا جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے ( اور جس کا ذکر قرآن میں ہے ) ان دو افراد میں سے ایک کا یہ کہنا تھا کہ اس سے مراد مسجد نبوی ہے ، اور دوسرے کا یہ کہنا تھا کہ اس سے مراد مسجد قباء ہے یہ دونوں حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد میری یہ مسجد ہے ۔
حدیث نمبر: 11055
وَفِي رِوَايَةٍ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سُئِلَ عَنِ الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى قَالَ : " هُوَ مَسْجِدِي " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس مسجد کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد میری یہ مسجد ہے ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں امام طبرانی نے انہیں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 11056
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى قَالَ : " هُوَ مَسْجِدِي هَذَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا ، وَفِي إِسْنَادِ الْمَرْفُوعِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ هُوَ ضَعِيفٌ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْمَوْقُوفِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَزَادَ فِي الطَّرِيقِ الْآخَرِ : قَالَ عُرْوَةُ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - : مَسْجِدُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرٌ مِنْهُ ، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍ . قُلْتُ : إِنَّمَا قَالَ عُرْوَةُ هَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يَطَّلِعْ عَلَى الْمَرْفُوعِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسجد کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس سے مراد میری یہ مسجد ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے نقل کی ہے مرفوع روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے موقوف روایات کی اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور دوسرے طریق میں یہ الفاظ زائد ہیں : عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ، مسجد قباء سے بہتر ہے لیکن یہ آیت مسجد قباء کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : عروہ نے یہ بات ( شاید ) اس لئے کہی کیونکہ وہ مرفوع حدیث پر مطلع نہیں ہو سکے تھے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرفوع اور موقوف دونوں طرح سے نقل کی ہے مرفوع روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے موقوف روایات کی اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اور دوسرے طریق میں یہ الفاظ زائد ہیں : عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد ، مسجد قباء سے بہتر ہے لیکن یہ آیت مسجد قباء کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : عروہ نے یہ بات ( شاید ) اس لئے کہی کیونکہ وہ مرفوع حدیث پر مطلع نہیں ہو سکے تھے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔