کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور تمہارے آس پاس کے دیہاتوں میں سے کچھ لوگ منافق ہیں “
حدیث نمبر: 11053
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ جُمُعَةٍ خَطِيبًا ، فَقَالَ : " قُمْ يَا فُلَانُ فَاخْرُجْ فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ ، اخْرُجْ يَا فُلَانُ ، فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ " . فَأَخْرَجَهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَفَضَحَهُمْ ، وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ شَهِدَ تِلْكَ الْجُمُعَةَ لِحَاجَةٍ كَانَتْ لَهُ ، فَلَقِيَهُمْ عُمَرُ وَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَاخْتَبَأَ مِنْهُمُ اسْتِحْيَاءً أَنَّهُ لَمْ يَشْهَدِ الْجُمُعَةَ ، وَظَنَّ أَنَّ النَّاسَ قَدِ انْصَرَفُوا وَاخْتَبَؤُوا هُمْ مِنْ عُمَرَ ، وَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ عَلِمَ بِأَمْرِهِمْ ، فَدَخَلَ عُمَرُ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا النَّاسُ لَمْ يَنْصَرِفُوا ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَبْشِرْ يَا عُمَرُ ، فَقَدْ فَضَحَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ ، فَهَذَا الْعَذَابُ الْأَوَّلُ ، وَالْعَذَابُ الثَّانِي عَذَابُ الْقَبْرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ منافق ہیں اور اہل مدینہ میں سے بھی کچھ لوگ منافق ہیں جو نفاق پر جمے ہوئے ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہو ہم انہیں جانتے ہیں ، اور ہم انہیں عنقریب دو مرتبہ عذاب دیں گے اور پھر انہیں عظیم عذاب کی طرف لوٹا دیا جائے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا : اے فلاں تم اٹھو اور نکل جاؤ تم منافق ہو اے فلاں تم بھی نکل جاؤ کیونکہ تم بھی منافق ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کا نام لے کر انہیں مسجد سے نکال دیا اور انہیں رسوائی کا شکار کیا اس دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کسی کام کے سلسلے میں جمعہ کی نماز کے لئے جلدی نہیں آ سکے تھے یہ لوگ مسجد سے نکلے تو ان کی ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے چھپنے لگے اس بات سے شرماتے ہوئے کہ وہ جمعہ میں پہلے نہیں آئے تھے وہ یہ سمجھے کہ شاید لوگ نماز پڑھ کے واپس جا رہے ہیں ، اور یہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے چھپنے لگے وہ یہ سمجھے کہ ہمارے معاملے کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چل گیا ہے پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو لوگوں نے ابھی نماز پڑھی ہی نہیں تھی ایک شخص نے ان سے کہا: اے عمر آپ کے لئے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ نے آج منافقین کو رسوا کر دیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : ) یہ پہلا عذاب ہے ، اور دوسرا عذاب قبر کے عذاب کی شکل میں ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عمرو بن محمد عنقزی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11053
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (796)»