کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور ان میں سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا “
حدیث نمبر: 11047
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ ثَعْلَبَةَ بْنَ حَاطِبٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا . قَالَ : " وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ ، قَلِيلٌ تُؤَدِّي شُكْرَهُ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرٍ لَا تُطِيقُهُ ، أَمَا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مِثْلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَوْ سَأَلْتُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ تَسِيلَ لِيَ الْجِبَالُ ذَهَبًا وَفِضَّةً لَسَالَتْ " . ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرْزُقَنِي مَالًا ، وَاللَّهِ لَئِنْ آتَانِيَ اللَّهُ مَالًا لَأُوتِيَنَّ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ ارْزُقْ ثَعْلَبَةَ مَالًا ، اللَّهُمَّ ارْزُقْ ثَعْلَبَةَ مَالًا ، اللَّهُمَّ ارْزُقْ ثَعْلَبَةَ مَالًا " . قَالَ : فَاتَّخَذَ غَنَمًا ، فَنَمَتْ كَمَا يَنْمُو الدُّودُ حَتَّى ضَاقَتْ عَلَيْهِ أَزِقَّةُ الْمَدِينَةِ ، فَتَنَحَّى بِهَا ، وَكَانَ يَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهَا ، ثُمَّ نَمَتْ حَتَّى تَعَذَّرَتْ عَلَيْهِ مَرَاعِي الْمَدِينَةِ ، فَتَنَحَّى بِهَا ، فَكَانَ يَشْهَدُ الْجُمُعَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَيْهَا ، ثُمَّ نَمَتْ فَتَنَحَّى بِهَا ، فَتَرَكَ الْجُمُعَةَ وَالْجَمَاعَاتِ ، فَيَتَلَقَّى الرُّكْبَانَ فَيَقُولُ : مَاذَا عِنْدَكُمْ مِنَ الْخَبَرِ ؟ وَمَا كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ ؟ وَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا ، وَاسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الصَّدَقَاتِ رَجُلَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلًا مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، فَكَتَبَ لَهُمْ سَنَةَ الصَّدَقَةِ وَأَسْنَانَهَا وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُصَدِّقَا النَّاسَ ، وَأَنْ يَمُرَّا بِثَعْلَبَةَ فَيَأْخُذَا مِنْهُ صَدَقَةَ مَالِهِ ، فَفَعَلَا حَتَّى دَفَعَا إِلَى ثَعْلَبَةَ ، فَأَقْرَآهُ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : صَدِّقَا النَّاسَ ، فَإِذَا فَرَغْتُمْ فَمُرُّوا بِي ، فَفَعَلَا ، فَقَالَ : [ وَاللَّهِ ] مَا هَذِهِ إِلَّا أُخَيَّةُ الْجِزْيَةِ . فَانْطَلَقَا حَتَّى لَحِقَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ إِلَى قَوْلِهِ : " يَكْذِبُونَ " قَالَ : فَرَكِبَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ قَرِيبٌ لِثَعْلَبَةَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى أَتَى ثَعْلَبَةَ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ يَا ثَعْلَبَةُ ، هَلَكْتَ ، قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ مِنَ الْقُرْآنِ كَذَا ، فَأَقْبَلَ ثَعْلَبَةُ وَقَدْ وَضَعَ التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ وَهُوَ يَبْكِي وَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ صَدَقَتَهُ حَتَّى قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا أَبَا بَكْرٍ قَدْ عَرَفْتَ مَوْضِعِي مِنْ قَوْمِي وَمَكَانِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاقْبَلْ مِنِّي ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُ ، ثُمَّ أَتَى عُمَرَ فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ ، ثُمَّ أَتَى عُثْمَانَ فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُ ، ثُمَّ مَاتَ ثَعْلَبَةُ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ثعلبہ بن حاطب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ثعلبہ تمہارا ستیاناس ہو ایسا تھوڑا مال کہ جس کا تم شکر ادا کرو وہ اس زیادہ مال سے بہتر ہے جس کی تم طاقت نہ رکھتے ہو کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ تم اللہ کے رسول کی مانند ہو جاؤ میں اگر اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگوں کہ میرے ساتھ پہاڑ سونے اور چاندی ہو کر چلنا شروع کریں تو وہ ایسے ہو جائیں گے پھر وہ شخص دوبارہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالٰی سے یہ دعا کیجئے کہ وہ مجھے مال عطا کرے ۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ نے مجھے مال عطا کیا تو میں ہر حق دار کو اس کا حق دوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : اے اللہ ! تو ثعلبہ کو مال عطا کر ۔ اے اللہ ! تو ثعلبہ کو مال عطا کر اے اللہ ! تو ثعلبہ کو مال عطا کر ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے کچھ بکریاں لیں ان کی بکریاں یوں بڑھنا شروع ہوئیں جس طرح پتنگے ہوتے ہیں یہاں تک کہ مدینہ کی گلیاں اس شخص کے لئے تنگ ہو گئیں تو وہ مدینہ منورہ سے ہٹ کے باہر چلا گیا وہ نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتا تھا پھر بکریوں کی طرف چلا جاتا تھا پھر وہ بکریاں بڑھتی گئیں یہاں تک کہ مدینہ منورہ کی نواحی چراگاہیں اس کے لئے مشکل کا باعث بنیں تو وہ وہاں سے ہٹ گیا پھر وہ صرف جمعہ کی نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں شریک ہوتا تھا پھر بکریوں کی طرف چلا جاتا تھا پھر وہ بکریاں اور بڑھ گئیں یہاں تک کہ وہ وہاں سے بھی دور چلا گیا اور جمعہ اور باجماعت نماز سب کو ترک کر دیا اس کی ملاقات کچھ سواروں سے ہوئی تو اس نے کہا: تمہارے پاس کیا اطلاع ہے ، اور لوگوں کی کیا صورت حال ہے اس وقت اللہ تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم نازل کر دیا تھا : ” تم ان کے اموال میں سے زکوۃ وصول کرو اور تم انہیں پاک کرو اور اس کے ذریعے ان کا تزکیہ کیا کرو “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کی وصولی کے لئے انصار سے تعلق رکھنے والے دو افراد اور بنو سالم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو عامل مقرر کیا ۔ آپ نے ان کے لئے زکوۃ کے احکام تحریر کروائے تھے زکوۃ کے جانوروں کے بارے میں اور ان کی عمروں کے بارے میں تحریر کروایا تھا اور انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ لوگوں سے زکوۃ وصول کریں اور یہ بھی حکم دیا تھا کہ وہ ثعلبہ کے پاس جائیں اور اس کے مال کی زکوۃ بھی اس سے وصول کریں ان دونوں نے اس حکم پر عمل کیا وہ دونوں ثعلبہ کے پاس آئے اور اس کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب پڑھ کے سنایا تو ثعلبہ نے کہا: آپ پہلے دوسرے لوگوں سے زکوۃ وصول کر لیں جب فارغ ہو جائیں تو میرے پاس سے گزریے گا ان دونوں نے ایسا ہی کیا ( جب وہ واپسی پر اس کے پاس آئے ) تو ثعلبہ نے کہا: اللہ کی قسم ! یہ تو جزیہ کی ایک قسم ہے وہ دونوں صاحبان گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اللہ تعالٰی نے اپنے رسول پر یہ آیت نازل کی : ” اور ان میں سے ایسا شخص بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد کرتا ہے کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہمیں عطا کر دیا ، تو ہم ضرور صدقہ دیں گے اور ضرور نیک لوگوں میں سے ہو جائیں گے اور جب اس کے فضل میں سے کچھ ( مال ) ان لوگوں کے پاس آیا ، تو انہوں نے اس مال کے حوالے سے بخل کیا ، اور منہ موڑ لیا اور وہ اعراض کرنے والے تھے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” جھوٹ بولنے والے “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جو ثعلبہ کے قریب رہتا تھا وہ اپنی سواری پر سوار ہوا اور ثعلبہ کے پاس آیا اور بولا: اے ثعلبہ تمہارا ستیاناس ہو تم ہلاکت کا شکار ہو گئے ہو اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں قرآن میں یہ حکم نازل کر دیا ہے ، تو ثعلبہ آیا وہ اپنے سر پر مٹی ڈال رہا تھا اور رو رہا تھا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی زکوۃ قبول نہیں کی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: اے ابوبکر میری قوم میں جو میری حیثیت ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں جو میرا مقام تھا آپ اس سے واقف ہیں آپ مجھ سے ( زکوة ) قبول کر لیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے زکوۃ قبول کرنے سے انکار کر دیا پھر وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو انہوں نے بھی زکوۃ قبول کرنے سے انکار کر دیا پھر وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو انہوں نے بھی اس سے زکوۃ قبول نہیں کی اور پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اس کا انتقال ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 11047
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7873)»