حدیث نمبر: 11027
عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ : قُلْنَا لِلزُّبَيْرِ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ ضَيَّعْتُمُ الْخَلِيفَةَ حَتَّى قُتِلَ ، ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِهِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ : إِنَّا قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً ، لَمْ نَكُنْ نَحْسَبُ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى وَقَعَتْ فِينَا حَيْثُ وَقَعَتْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ ، رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مطرف بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : اے ابوعبداللہ آپ کے ساتھ کیا صورت حال پیش آئی کہ آپ نے خلیفہ کو ضائع کر دیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے اور پھر آپ ان کے خوان کے قصاص کے طلبگار بن کے آ گئے ہیں تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں یہ پڑھا تھا کہ تم لوگ فتنے سے بچو ایسا نہ ہو کہ وہ تم میں سے بطور خاص ان لوگوں کو لاحق ہو جائے جنہوں نے ظلم کیا ہے ۔ ( سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) ہم یہ گمان نہیں کرتے تھے کہ ہم اس کے متعلقہ فرد بن جائیں گے یہاں تک کہ ہمارے درمیان یہ اسی طرح رونما ہو گیا جس طرح ہوا ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دو میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دو میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔