حدیث نمبر: 11024
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَهِدْنَا مَعَهُ بَدْرًا ، فَالْتَقَى النَّاسُ ، فَهَزَمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْعَدُوَّ ، فَانْطَلَقَتْ طَائِفَةٌ فِي آثَارِهِمْ يَهْزِمُونَ وَيَقْتُلُونَ ، وَأَكَبَّتْ طَائِفَةٌ عَلَى الْعَسْكَرِ يَحُوزُونَهُ وَيَجْمَعُونَهُ ، وَأَحْدَقَتْ طَائِفَةٌ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يُصِيبُ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً ، حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ وَفَاءَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ الَّذِينَ جَمَعُوا الْغَنَائِمَ : نَحْنُ حَوَيْنَاهَا وَجَمَعْنَاهَا فَلَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا نَصِيبٌ ، وَقَالَ الَّذِينَ خَرَجُوا فِي طَلَبِ الْعَدُوِّ : لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا ، نَحْنُ نَفَيْنَا عَنْهَا الْعَدُوَّ وَهَزَمْنَاهُمْ ، وَقَالَ الَّذِينَ أَحْدَقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَسْتُمْ بِأَحَقَّ بِهَا مِنَّا ، نَحْنُ أَحْدَقْنَا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخِفْنَا أَنْ يُصِيبَ الْعَدُوُّ مِنْهُ غِرَّةً وَاشْتَغَلْنَا بِهِ ، فَنَزَلَتْ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ، فَقَسَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فُوَاقٍ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ . ¤ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَلَ الرُّبْعَ ، وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكَلَّ النَّاسُ نَفَلَ الثُّلْثَ . وَكَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ : " لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : كَانَ يَنْفُلُ فِي الْبَدَاءَةِ الرُّبْعَ ، وَفِي الْقُفُولِ الثُّلْثَ فَقَطْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے ہم آپ کے ساتھ غزوہ بدر میں شریک ہوئے دونوں فریق جب ایک دوسرے کے سامنے آئے ، تو اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا ( مسلمانوں کا ) ایک گروہ دشمن کے پیچھے چلا گیا تاکہ انہیں پسپا کرے اور انہیں قتل کرے ایک گروہ لشکر ( کے ساز و سامان ) کو اکٹھا کرنے میں مصروف ہو گیا اور انہیں جمع کرنے لگا اور ایک گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا تاکہ دشمن اچانک آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے جب رات کا وقت ہوا اور لوگ ایک دوسرے سے آ کے ملے تو جن لوگوں نے مال غنیمت اکٹھا کیا تھا انہوں نے کہا: ہم نے اسے اکٹھا کیا ہے سمیٹا ہے ، تو کسی کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہو گا جو لوگ دشمن کے پیچھے گئے تھے انہوں نے کہا: تم اس کے بارے میں ہم سے زیادہ حق نہیں رکھتے ہو ہم نے اس سے دشمن کو پرے کیا ، اور اسے پسپا کیا جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کرتے رہے تھے انہوں نے یہ کہا: تم اس کے بارے میں ہم سے زیادہ حق نہیں رکھتے ہو ۔ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کی ہمیں اندیشہ تھا کہ کہیں دشمن آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ہم اس طرف مشغول رہے تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” لوگ تم سے انفال کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تم فرما دو ! انفال ، اللہ اور رسول کے لئے مخصوص ہے تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور آپس میں بہتری رکھو “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مال تمام مسلمانوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دشمن کی سرزمین پر حملہ آور ہوتے تھے ، تو آپ چوتھائی حصہ انعام کے طور پر دیتے تھے اور جب آپ واپس تشریف لے جانے لگتے تھے ، تو آپ تمام لوگوں کو ایک تہائی حصہ نفل ( یعنی انعام کے طور پر ) دیتے تھے اور آپ خود انفال ( وصول کرنے ) کو ناپسند کرتے تھے آپ یہ فرماتے تھے : خوشحال مومنین کو چاہیے کہ اپنے کمزور افراد کو یہ لوٹا دیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں ایک چوتھائی حصہ انعام کے طور پر دیتے تھے اور واپسی پر ایک تہائی حصہ دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے یہ بات نقل کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں ایک چوتھائی حصہ انعام کے طور پر دیتے تھے اور واپسی پر ایک تہائی حصہ دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 11025
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - عَنِ الْأَنْفَالِ ، فَقَالَ : فِينَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ بَدْرٍ نَزَلَتْ حِينَ اخْتَلَفْنَا فِي النَّفْلِ وَسَاءَتْ فِيهِ أَخْلَاقُنَا ، فَانْتَزَعَهُ اللَّهُ مِنْ أَيْدِينَا وَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَسَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ بَوَاءٍ . يَقُولُ : عَلَى السَّوَاءِ . وَرِجَالُ الطَّرِيقَيْنِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے انفال کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ ہمارے یعنی اصحاب بدر کے بارے میں آیت نازل ہوئی تھی : جب ہم نے مال غنیمت کے بارے میں اختلاف کیا تھا اور اس بارے میں ہمارے اخلاق خراب ہو گئے تھے ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے ہاتھوں سے لیا اور اپنے رسول کے لئے مقرر کر دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برابری کی بنیاد پر اسے لوگوں میں تقسیم کر دیا ۔ دونوں طرق کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 11026
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : نَزَلَ الْإِسْلَامُ بِالْكُرْهِ وَالشِّدَّةِ ، فَوَجَدْنَا خَيْرَ الْخَيْرِ فِي الْكَرَاهَةِ ، فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ ، فَجُعِلَ لَنَا فِي ذَلِكَ الْعَلَاءُ وَالظَّفَرُ ، وَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى بَدْرٍ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى - : ( وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ ) ( يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ ) ( وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ ) ، وَالشَّوْكَةُ قُرَيْشٌ ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَنَا فِي ذَلِكَ الْعَلَاءَ وَالظَّفَرَ ، فَوَجَدْنَا خَيْرَ الْخَيْرِ فِي الْكُرْهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عِمْرَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اسلام ایسی حالت میں نازل ہوا کہ جب ناگواری تھی اور سختی تھی ، تو ہم نے جس چیز کو ناپسند کیا اس میں سب سے زیادہ بہتری پائی ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مکہ سے نکلے آپ نے ہمارے لئے سر بلندی اور کامیابی طے کی ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کی طرف ایسی حالت میں نکلے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور اہل ایمان کا ایک گروہ اس چیز کو ناپسند کرتا تھا وہ حق کے بارے میں آپ سے اختلاف کر رہے تھے حالانکہ وہ واضح ہو چکا تھا وہ یوں تھے جیسے انہیں موت کی طرف ہانک کر لے جایا جا رہا ہے ، اور وہ دیکھ رہے ہیں ، اور جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کیا کہ وہ تمہیں ملے گا اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ والا ملے جس میں لڑائی نہ کرنی پڑے “ ۔ یہاں شوکت سے مراد قریش ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اس صورت حال میں سر بلندی اور کامیابی مقرر کر دی اور ہم نے جس چیز کو ناپسند کیا تھا اس میں سب سے بہتری پائی ۔
یہ روایت امام بزر نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک روی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزر نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک روی عبدالعزیز بن عمران ہے اور وہ ضعیف ہے ۔