کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کر دیا “
حدیث نمبر: 11008
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَائِشَةَ : " يَا عَائِشَةُ إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا هُمْ أَصْحَابُ الْبِدَعِ وَأَصْحَابُ الْأَهْوَاءِ ، لَيْسَ لَهُمْ تَوْبَةٌ ، أَنَا مِنْهُمْ بَرِيءٌ ، وَهُمْ مِنِّي بَرَاءٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ ! بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کر دیا اور وہ مختلف گروہوں کی شکل میں ہو گئے یہ بدعتی لوگ اور نفسانی خواہشات کے پیرو کار لوگ ہیں ان لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہو گی میں ان سے لا تعلق ہوں اور وہ لوگ مجھ سے لاتعلق ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 11009
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ ، قَالَ : " هُمْ أَهْلُ الْبِدَعِ وَالْأَهْوَاءِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُعَلِّلِ بْنِ نُفَيْلٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو فرقوں میں تقسیم کیا اور وہ مختلف گروہوں کی شکل میں ہو گئے تم ان کے حوالے سے ( کسی چیز کے ذمہ دار ) نہیں ہو “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد اہل بدعت ہیں ، اور نفسانی خواہشات کے پیروکار لوگ ہیں جو اس امت سے تعلق رکھتے ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف معلل بن نفیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف معلل بن نفیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔