کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور وہ لوگ اس ( نبی ) سے روکتے ہیں “
حدیث نمبر: 10994
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ ، نَزَلَتْ فِي أَبِي طَالِبٍ ، كَانَ يَنْهَى عَنْ أَذَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَنْأَى عَنِ اتِّبَاعِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور وہ لوگ ( نبی ) سے روکتے ہیں ، اور اس ( نبی ) سے دور رہتے ہیں “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : ) یہ آیت جناب ابوطالب کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت پہنچانے سے منع کرتے تھے اور خود ان کی پیروی سے دو رہتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا کہ جبکہ یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا کہ جبکہ یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔