کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں دیتے ہیں یہی لوگ “
حدیث نمبر: 10975
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْزَلَ وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ، وَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ، وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ . قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : أَنْزَلَهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الطَّائِفَتَيْنِ مِنَ الْيَهُودِ كَانَتْ إِحْدَاهُمَا قَدْ قَهَرَتِ الْأُخْرَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، حَتَّى ارْتَضَوْا وَاصْطَلَحُوا عَلَى أَنَّ كُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَتْهُ الْعَزِيزَةُ فِدْيَتُهُ خَمْسُونَ وَسْقًا ، وَكُلَّ قَتِيلٍ قَتَلَتْهُ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ فِدْيَتُهُ مِائَةُ وَسْقٍ . فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ ، فَنَزَلَتِ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا لِمَقْدَمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَظْهَرْ ، وَلَمْ يُوَطِّئْهُمَا عَلَيْهِ ، وَهُمْ فِي الصُّلْحِ ، فَقَتَلَتِ الذَّلِيلَةُ مِنَ الْعَزِيزَةِ قَتِيلًا ، فَأَرْسَلَتِ الْعَزِيزَةُ إِلَى الذَّلِيلَةِ أَنِ ابْعَثُوا إِلَيْنَا بِمِائَةِ وَسْقٍ . فَقَالَتِ الذَّلِيلَةُ : وَهَلْ كَانَ هَذَا فِي خَيْرٍ قَطُّ ؟ دِينُهُمَا وَاحِدٌ وَنَسَبُهُمَا وَاحِدٌ وَبَلَدُهُمَا وَاحِدٌ ، دِيَةُ بَعْضِهِمْ نِصْفُ دِيَةِ بَعْضٍ ، إِنَّمَا أَعْطَيْنَاكُمْ هَذَا ضَيْمًا مِنْكُمْ لَنَا وَفَرَقًا مِنْكُمْ ، فَأَمَّا إِذْ قَدِمَ مُحَمَّدٌ فَلَا نُعْطِيكُمْ ، فَكَادَتِ الْحَرْبُ تَهِيجُ بَيْنَهُمَا ، فَاصْطَلَحُوا عَلَى أَنْ يَجْعَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَهُمْ ، ثُمَّ ذَكَرَتِ الْعَزِيزَةُ فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا مُحَمَّدٌ بِمُعْطِيكُمْ مِنْهُمْ ضَعْفَ مَا يُعْطِيهِمْ مِنْكُمْ ، وَلَقَدْ صَدَقُوا بِمَا أَعْطَوْنَا هَذَا ضَيْمًا مِنَّا وَقَهْرًا لَهُمْ ، فَدُسُّوا إِلَى مُحَمَّدٍ مَنْ يَخْبَرُ لَكُمْ رَأْيَهُ ، إِنْ أَعْطَاكُمْ مَا تُرِيدُونَ حَكَّمْتُمُوهُ ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِكُمْ حَذِرْتُمْ فَلَمْ تُحَكِّمُوهُ . فَدَسُّوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسًا مِنَ الْمُنَافِقِينَ لِيَخْبَرُوا لَهُمْ رَأْيَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْبَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَمْرِهِمْ كُلِّهِ وَمَا أَرَادُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى : ( وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ) ، ثُمَّ قَالَ فِيهِمَا : " وَاللَّهِ أُنْزِلَتْ ، وَإِيَّاهُمْ عَنَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ " . قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں دیتے ہیں تو یہی لوگ کافر ہیں “ ۔ ( اور پھر فرمایا : ) ” یہی لوگ ظالم ہیں “ ۔ ( اور پھر فرمایا : ) ” یہی لوگ فاسق ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل کی تھیں زمانہ جاہلیت میں ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر غالب آ گیا پھر ان کے درمیان آپس میں یہ طے ہوا اور اس بات پر صلح ہوئی کہ غالب گروہ جس مقتول کو قتل کرے گا ، تو اس کی دیت پچاس وسق ہو گی اور مغلوب گروہ جس مقتول کو قتل کرے گا اس کی دیت ایک سو وسق ہو گی وہ لوگ اسی چیز پر کار بند رہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے ، تو دونوں گروہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری پر اسی صورت حال پر تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابھی ریاستی طور پر غلبہ حاصل نہیں ہوا تھا وہ لوگ صلح کا وقت گزار رہے تھے اس دوران کمتر گروہ کے ایک شخص نے غالب گروہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا تو غالب گروہ نے کمتر گروہ کو یہ پیغام بھیجا کہ تم ایک سو وسق ہماری طرف بھیجوا دو تو کمزور گروہ نے کہا: کیا اس میں کبھی کوئی بھلائی ہو سکتی ہے جبکہ دونوں طرف کے لوگوں کا دین ایک ہے دونوں کا نسب ایک ہے دونوں کا شہر ایک ہے ، تو ان میں سے کسی ایک کی دیت دوسرے کی دیت کا نصف ہو گی ہم نے تو تمہیں یہ چیز اس لئے دی تھی کیونکہ ہم تم سے بچنا چاہ رہے تھے اور تم سے خوف زدہ تھے اور جب سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تشریف لے آئے ہیں تو ہم تمہیں یہ ادائیگی نہیں کریں گے ان گروہوں کے درمیان جنگ بھڑکنے والی تھی کہ ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ اپنے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ثالث بنا لیتے ہیں پھر غالب گروہ نے یہ بات ذکر کی اور کہا: اللہ کی قسم ! سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہاری طرف سے جو انہیں دیتے ہیں اس کا دُگنا ان لوگوں کی طرف سے تمہیں نہیں دیں گے اور ان لوگوں نے یہ بات ٹھیک بیان کی ہے کہ انہوں نے ہمارے غلبے اور خوف کی وجہ سے ایسا کیا تھا ، تو تمہیں ۔ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف کسی شخص کو بھجوانا چاہیے جو تمہیں اس بارے میں بتائے کہ ان کی کیا رائے ہے اگر تو وہ وہی فیصلہ دیں گے جو تم چاہتے ہو ، تو تم انہیں ثالث بنا لینا اور اگر وہ تمہیں وہ فیصلہ نہیں دیں گے ، تو تم اس چیز سے بچ جانا تم انہیں ثالث نہ بنانا ان لوگوں نے کچھ منافقین کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تاکہ وہ منافقین ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کے بارے میں بتائیں جب وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان لوگوں کے پورے معاملے کے بارے میں اور ان کے ارادے کے بارے میں بتا دیا اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے رسول ! وہ لوگ جو کفر میں جلدی کرتے ہیں وہ تمہیں غمگین نہ کریں یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے یہ کہا: ہم ایمان لائے انہوں نے اپنے منہ کے ذریعے یہ بات کہی “ ۔ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان تک ہے : ” اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ کے مطابق فیصلہ نہیں دیتا تو یہی لوگ فاسق ہیں “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں گروہوں کے بارے میں فرمایا : اللہ کی قسم ! حکم نازل ہو گیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے یہی لوگ مراد لئے ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے امام أحمد کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔