کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے ساتھ کلام کیا “
حدیث نمبر: 10959
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ : لَمْ يُكَلِّمِ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا ، فَقَالَ : مَا هَذَا إِلَّا كَافِرٌ ، قَرَأْتُ عَلَى الْأَعْمَشِ ، وَقَرَأَ الْأَعْمَشُ عَلَى يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، وَقَرَأَ يَحْيَى بْنُ وَثَّابٍ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَقَرَأَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، وَقَرَأَ عَلِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَى تَكْلِيمًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَالَّذِي وَجَدْتُهُ رَوَى عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ مَيْمُونٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالنُّسْخَةُ سَقِيمَةٌ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالجبار بن عبداللہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص ابوبکر بن عیاش کے پاس آیا اور بولا: میں نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ کلام نہیں کیا تھا ، تو ابوبکر بن عیاش نے کہا: وہ شخص کافر ہو گا میں نے اعمش کے سامنے یہ تلاوت کی ہے اعمش نے یحیی بن وثاب کے سامنے تلاوت کی تھی یحییٰ بن وثاب نے ابوعبدالرحمن کے سامنے تلاوت کی تھی اور ابوعبدالرحمن نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سامنے تلاوت کی تھی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ آیت تلاوت کی تھی : اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے ساتھ کلام کیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے عبدالجبار بن عبداللہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ جس شخص کو میں نے ابوبکر بن عیاش کے حوالے سے
یہ روایت نقل کرتے ہوئے پایا ہے وہ أحمد بن عبدالجبار بن میمون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور وہ نسخہ بھی سقیم ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے عبدالجبار بن عبداللہ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ جس شخص کو میں نے ابوبکر بن عیاش کے حوالے سے
یہ روایت نقل کرتے ہوئے پایا ہے وہ أحمد بن عبدالجبار بن میمون ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، اور وہ نسخہ بھی سقیم ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔