کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک وہ آپس کے اختلافی معاملات میں تمہیں حاکم نہیں بنا لیتے ہیں “
حدیث نمبر: 10935
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ : خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَضَى لِلزُّبَيْرِ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّمَا قَضَى لَهُ لِأَنَّهُ ابْنُ عَمَّتِهِ . فَنَزَلَتْ : ( فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ ) - الْآيَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کا ایک شخص کے ساتھ جھگڑا ہو گیا وہ اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ دے دیا تو اس شخص نے کہا: انہوں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں اس لئے فیصلہ دیا ہے کیونکہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پھوپھی زاد ہیں تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” تمہارے رب کی قسم ! یہ لوگ جو اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10935
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (294/23)»