کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اے ہمارے پروردگار ! تو ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر دینا “
حدیث نمبر: 10888
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ فِي دُعَائِهِ أَنْ يَقُولَ : " اللَّهُمَّ مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ " . ¤ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، مَا مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مِنْ بَشَرٍ مِنْ بَنِي آدَمَ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَقَامَهُ ، وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ رَبَّنَا أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا ، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ " . ¤ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُعَلِّمُنِي دَعْوَةً أَدْعُو بِهَا لِنَفْسِي ؟ قَالَ : " بَلَى ، قُولِي : اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي ، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي ، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْيَيْتَنَا " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . وَتَأْتِي بَقِيَّةُ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْقَدَرِ وَالْأَدْعِيَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : ” اے اللہ ! اے دلوں کو تبدیل کر دینے والے تو میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھنا “ ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دل بھی تبدیل ہو جاتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں اللہ کی مخلوق میں سے اولاد آدم میں سے ہر انسان کا دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے ، تو اس کو اس کی جگہ پر برقرار رکھتا ہے ، اور اگر چاہے ، تو اسے ٹیڑھا کر دیتا ہے ، تو ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے اس کے بعد کہ وہ ہمیں ہدایت دے چکا ہے ، اور ہم اس سے یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کرے بے شک وہ بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے “ ۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے کسی ایسی دعا کے بارے میں تعلیم نہیں دیں گے جو میں اپنی ذات کے لئے کیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! تم یہ پڑھا کرو : ” اے اللہ ! اے محمد نبی کے پروردگار تو میرے گناہ کی مغفرت کر دے میرے دل کی سختی کو ختم کر دے اور مجھے جب تک تو زندہ رکھے گا ، تو مجھے فتنوں کی گمراہیوں سے بچا کے رکھنا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ طرق تقدیر اور دعاؤں سے متعلق باب میں آگے آئیں گے اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10888
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن