کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ رسول ایمان لایا “
حدیث نمبر: 10886
عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : أُعْطِيتُ هَذِهِ الْآيَاتِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ لَمْ يُعْطَهَا نَبِيٌّ قَبْلِي . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طُرُقُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي أَوَّلِ السُّورَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تھے : ” مجھے سورت بقرہ کی آخری آیات عرش کے نیچے موجود خزانے میں سے عطا کی گئی ہیں یہ مجھ سے پہلے کسی ( اور ) نبی کو عطا نہیں کی گئی ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق اس سے پہلے سورت کے آغاز میں گزر چکے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10886
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3025) اخرجه احمد فى المسند (383/5)»
حدیث نمبر: 10887
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ آدَمَ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ ، وَأَبُو أُمَامَةَ ، وَوَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالُوا : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ ؟ قَالَ : " هُوَ مَنْ بَرَّتْ يَمِينُهُ وَصَدَقَ لِسَانُهُ ، وَعَفَّ فَرْجُهُ وَبَطْنُهُ ، فَذَاكَ الرَّاسِخُ فِي الْعِلْمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن یزید بن آدم بیان کرتے ہیں : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے ان حضرات کا یہ بیان کرنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا ۔ علم میں رسوخ رکھنے والے لوگ کون ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شخص جس کی قسم سچی ہو جس کی زبان سچی ہو جس کی شرمگاہ اور پیٹ پاک دامن ہوں وہ شخص علم میں رسوخ رکھنے والا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور عبداللہ بن یزید نامی راوی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10887
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف