کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ پہلے لوگ ایک امت تھے “
حدیث نمبر: 10857
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً قَالَ : عَلَى الْإِسْلَامِ كُلُّهُمْ . ¤ وَقَالَ الْكَلْبِيُّ : يَعْنِي عَلَى الْكُفْرِ كُلُّهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” پہلے لوگ ایک امت تھے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : پہلے سب لوگ اسلام کے پیرو کار تھے ۔ کلبی فرماتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے : پہلے سب لوگ کفر پر عمل پیرا تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10858
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ بَيْنَ آدَمَ وَنُوحٍ عَشَرَةُ قُرُونٍ كُلُّهُمْ عَلَى شَرِيعَةٍ مِنَ الْحَقِّ ، قَالَ : فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ النُّعْمَانِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَقَالَ غَيْرُهُ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ . ¤ قَوْلُهُ تَعَالَى : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ . ¤ تَقَدَّمَ حَدِيثُ هَذِهِ الْآيَةِ فِي أَوَاخِرِ الْمَغَازِي وَالسِّيَرِ فِي أَبْوَابِ الْبُعُوثِ وَالسَّرَايَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا نوح علیہ السلام کے درمیان دس صدیاں تھیں اور وہ سب لوگ حق کی شریعت پر گامزن رہے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب اللہ تعالٰی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا ، اور اپنی کتاب نازل کی تو پھر لوگ ایک امت ہو گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن نعمان ہے ، جسے یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات یہ کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن نعمان ہے ، جسے یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات یہ کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے ۔