کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم اپنے ہاتھ ہلاکت میں نہ ڈالو “
حدیث نمبر: 10848
عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ قَالَ : كَانَتِ الْأَنْصَارُ يَتَصَدَّقُونَ ، وَيُعْطُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، فَأَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ فَأَمْسَكُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَزَادَ : وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ . وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوجبیرہ بن ضحاک بیان کرتے ہیں : انصار جو اللہ کو منظور ہوتا تھا وہ چیز صدقہ کر دیتے تھے اور دے دیتے تھے انہیں قحط سالی لاحق ہوئی تو وہ ایسا کرنے سے رک گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی : ” اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور بھلائی کرو بے شک اللہ تعالیٰ بھلائی کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10848
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (390/22)»
حدیث نمبر: 10849
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ يُذْنِبُ الذَّنْبَ فَيَقُولُ : لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِي ! فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى : وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو “ ۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے کوئی شخص گناہ کا ارتکاب کرتا تھا ، تو یہ کہتا تھا : اللہ تعالیٰ میری مغفرت نہیں کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” تم اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور بھلائی کرو اور بے شک اللہ تعالیٰ بھلائی کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کرتے ہیں ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10849
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح