کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد اور اس بارے میں وعید کا بیان
حدیث نمبر: 10682
عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ قَذْفَ الْمُحْصَنَةِ يَهْدِمُ عَمَلَ مِائَةِ سَنَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : پاک دامن عورت پر زنا کا جھوٹا الزام لگانا ایک سو سال کے عمل کو منہدم کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10683
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَائِشَةَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ " قَالَتْ : بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ . ¤ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عِنْدِ عَائِشَةَ فَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَضَرَبَهُ حَدَّيْنِ ، وَبَعَثَ إِلَى مِسْطَحٍ وَحَمْنَةَ فَضَرَبَهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری بے گناہی کے بارے حکم نازل کر دیا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہوں آپ کی تعریف نہیں کرتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے آپ نے عبداللہ بن ابی کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اس کو دو حدوں کی سزا دی پھر آپ نے مسطح نامی صاحب اور حمنہ نامی خاتون کو پیغام بھیج کر بلوایا اور ان کی بھی پٹائی کروائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔
حدیث نمبر: 10684
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَلَدَهُمْ ثَمَانِينَ ثَمَانِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . وَفِي مَنَاقِبِ عَائِشَةَ حَدِيثٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي جَلْدِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسی(80) اسی (80) کوڑے لگوائے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مناقب سے متعلق باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث آئے گی جس میں یہ مذکور ہو گا کہ قیامت کے دن بھی انہیں کوڑے لگیں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مناقب سے متعلق باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث آئے گی جس میں یہ مذکور ہو گا کہ قیامت کے دن بھی انہیں کوڑے لگیں گے ۔
حدیث نمبر: 10685
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنَّهُ يَرِثُ أُمَّهُ ، وَتَرِثُهُ أُمُّهُ ، وَمَنْ قَفَاهَا بِهِ جُلِدَ ثَمَانِينَ ، وَمَنْ دَعَاهُ وَلَدَ الزِّنَا جُلِدَ ثَمَانِينَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : وَذَكَرَ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ، فَإِنْ كَانَ هَذَا تَصْرِيحًا بِالسَّمَاعِ فَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَإِلَّا فَهِيَ عَنْعَنَةُ ابْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ وہ بچہ اپنی ماں کا وارث بنے گا اور اس کی ماں اس کی وارث بنے گی اور جو شخص اس عورت پر زنا کا الزام لگائے گا اسے اسی کوڑے لگائے جائیں گے اور جو شخص اس کے بیٹے کو زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے کے طور پر بلائے گا اسے بھی اسی کوڑے لگائے جائیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے کہ عمرو بن شعیب نے یہ بات ذکر کی ہے اگر تو اس میں سماع کی صراحت ہے ، تو اس کے رجال ثقہ ہیں ورنہ یہ ابن اسحاق کی عنعنہ کے طور پر نقل کردہ روایت ہو گی اور وہ راوی مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے کہ عمرو بن شعیب نے یہ بات ذکر کی ہے اگر تو اس میں سماع کی صراحت ہے ، تو اس کے رجال ثقہ ہیں ورنہ یہ ابن اسحاق کی عنعنہ کے طور پر نقل کردہ روایت ہو گی اور وہ راوی مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10686
وَعَنْ الْقَاسِمِ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - : لَا حَدَّ إِلَّا فِي اثْنَيْنِ : أَنْ تُقْذَفَ مُحْصَنَةٌ ، أَوْ يُنْفَى رَجُلٌ مِنْ أَبِيهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو میں سے کسی ایک صورت میں حد ہو سکتی ہے یہ کہ تم کسی پاک دامن عورت پر زنا کا الزام لگا دو یا کسی شخص کی اس کے باپ سے نسبت کا انکار کر دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے اپنے دادا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، تاہم اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے اپنے دادا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، تاہم اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10687
وَعَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ قَالَ : شَهِدَ أَبُو بَكْرَةَ ، وَنَافِعٌ ، وَشِبْلُ بْنُ مَعْبَدٍ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ; أَنَّهُمْ نَظَرُوا إِلَيْهِ كَمَا نَظَرُوا إِلَى الْمِرْوَدِ فِي الْمُكْحُلَةِ ، فَجَاءَ زِيَادٌ ، فَقَالَ عُمَرُ : جَاءَ رَجُلٌ لَا يَشْهَدُ إِلَّا بِحَقٍّ ، فَقَالَ : رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَبِيحًا وَابْتِهَارًا . قَالَ : فَجَلَدَهُمْ عُمَرُ الْحَدَّ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سیدنا نافع رضی اللہ عنہ سیدنا شبل بن معبد رضی اللہ عنہ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ گواہی دی کہ انہوں نے سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور یوں دیکھا کہ جس طرح کو سلائی سرمہ دانی میں ڈالی جاتی ہے پھر زیاد آئے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک ایسا شخص آیا ہے جو صرف حق کے مطابق گواہی دے گا ، تو اس نے کہا: میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جو قبیح اور قابل مذمت تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو حد کے طور پر کوڑے لگوائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔