حدیث نمبر: 10510
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ : عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَالْمَعْتُوهِ حَتَّى يُفِيقَ ، وَالصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يَحْتَلِمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَمْزَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ، سوئے ہوئے شخص سے جب تک وہ بیدار نہیں ہو جاتا ذہنی توازن کی خرابی کا شکار شخص جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتا اور بچے سے جب تک اسے عقل نہیں آ جاتی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ بن حمزہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ بن حمزہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10511
وَعَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوَلَانِيِّ قَالَ : أَخْبَرَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْهُمْ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ ، وَثَوْبَانُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " رُفِعَ الْقَلَمُ فِي الْحَدِّ عَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ الْهَالِكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوادریس خولانی بیان کرتے ہیں : مجھے ایک سے زیادہ صحابہ کرام نے یہ بات بیان کی ہے جن میں ایک سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ اور ایک سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ، بچے سے ، جب تک وہ بڑا نہیں ہو جاتا ہے ، سوئے ہوئے شخص سے ، جب تک وہ بیدار نہیں ہو جاتا ، اور پاگل سے ، جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10512
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ : عَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے بچے سے جب تک وہ بڑا نہیں ہو جاتا ہے سوئے ہوئے شخص سے جب تک وہ بیدار نہیں ہو جاتا اور پاگل سے جب تک وہ ٹھیک نہیں ہو جاتا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر بن حفص ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر بن حفص ہے ، اور وہ متروک ہے ۔