حدیث نمبر: 10490
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ زِيَادٍ ، فَأَتَى رَجُلٌ فَشَهِدَ فَغَيَّرَ شَهَادَتَهُ ، فَقَالَ : لَأَقْطَعَنَّ لِسَانَكَ ، فَقَالَ لَهُ يَعْلَى : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " قَالَ اللَّهُ : لَا تُمَثِّلُوا بِعِبَادِي " . ¤ قَالَ : فَتَرَكَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تُمَثِّلُوا بِعِبَادِ اللَّهِ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِمَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ زیاد کے پاس موجود تھے ایک شخص آیا اس نے گواہی دی پھر اس نے گواہی تبدیل کر لی تو زیاد نے کہا: میں تمہاری زبان ضرور کٹوا دوں گا ، تو سیدنا یعلی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” تم میرے بندوں کا مثلہ نہ کرو “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو زیاد نے اسے ترک کر دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ان صحابی کی نقل کردہ ایک روایت جو امام طبرانی نے نقل کی ہے اس میں وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ اللہ کے بندوں کا مثلہ نہ کرو “ ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ ان صحابی کی نقل کردہ ایک روایت جو امام طبرانی نے نقل کی ہے اس میں وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم لوگ اللہ کے بندوں کا مثلہ نہ کرو “ ۔ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حدیث نمبر: 10491
وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ : ¤ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمُثْلَةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ . وَفِي الطَّبَرَانِيِّ : عَنِ الْمُغِيرَةِ ابْنِ بِنْتِ الْمُغِيرَةِ قَالَ : ¤ مَرَّ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ بِالْحِيرَةِ ، فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا ثَعْلَبًا يَرْمُونَهُ غَرَضًا فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ . ¤ فَإِنْ كَانَ الْمُغِيرَةَ ابْنَ بِنْتِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيَّ ، فَهُوَ ثِقَةٌ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ ، فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک شخص کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے اس کے حوالے سے یہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے طبرانی میں یہ بات منقول ہے کہ
یہ روایت سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے نواسے مغیرہ سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : حیرہ کے مقام پر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا وہاں کچھ لوگوں نے ایک لومڑی کو نشانہ بنایا ہوا تھا ، اور اس پر نشانے بازی کر رہے تھے ، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس کھڑے ہوئے ، اور بولے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ۔ اگر تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے نواسے مغیرہ سے مراد مغیرہ بن عبداللہ یشکری ہے ، تو پھر وہ ثقہ ہے ، اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے قسموں اور نذر سے متعلق باب میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک شخص کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے اس کے حوالے سے یہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے طبرانی میں یہ بات منقول ہے کہ
یہ روایت سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے نواسے مغیرہ سے منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : حیرہ کے مقام پر سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا وہاں کچھ لوگوں نے ایک لومڑی کو نشانہ بنایا ہوا تھا ، اور اس پر نشانے بازی کر رہے تھے ، تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ ان کے پاس کھڑے ہوئے ، اور بولے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ۔ اگر تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ کے نواسے مغیرہ سے مراد مغیرہ بن عبداللہ یشکری ہے ، تو پھر وہ ثقہ ہے ، اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے قسموں اور نذر سے متعلق باب میں سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔
حدیث نمبر: 10492
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَعَائِذِ بْنِ قُرْطٍ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا تُمَثِّلُوا بِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ فِيهِ الرُّوحُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ اور سیدنا عائذ بن قرظ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی مخلوق میں سے کسی ایسی چیز کا مثلہ نہ کرو جس میں روح موجود ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10493
وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَاشِدٍ ، قَالَ : كَانَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مُلْجِمٍ لَعَنَهُ اللَّهُ وَأَصْحَابَهُ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَفَاةِ عَلِيٍّ وَقَتْلِهِ إِلَى أَنْ قَالَ : ¤ فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحُسَيْنِ : إِنْ بَقِيتُ رَأَيْتُ فِيهِ رَأْيِي ، وَإِنْ هَلَكْتُ مِنْ ضَرْبَتِي هَذِهِ ، فَاضْرِبْهُ ضَرْبَةً وَلَا تُمَثِّلْ بِهِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ وَلَوْ بِالْكَلْبِ الْعَقُورِ . وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي مَنَاقِبِ عَلِيٍّ ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
اسماعیل بن راشد کہتے ہیں : ابن ملجم ، اللہ تعالیٰ اس پر اور اس کے ساتھیوں پر لعنت کرے اس کے واقعہ میں یہ بات ہے ، جس میں راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وفات اور ان کے قتل ہونے کے بارے میں ہے اس میں راوی کہتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے امام حسین رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اگر میں زندہ رہ گیا تو اس کے بارے میں اپنی رائے دیکھوں گا ( کہ وہ کیا ہوتی ہے ؟ ) اور اگر اس کی اس ضرب کی وجہ سے میں مر گیا تو تم بھی اسے ایک ضرب لگانا تم اس کا مثلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے خواہ وہ کوئی باؤلہ کتا ہی کیوں نہ ہو ۔ یہ مکمل روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 10494
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ : ¤ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النُّهْبَةِ وَالْمُثْلَةِ النَّهْيُ عَنِ الْمُثْلَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کوئی چیز ) لوٹ لینے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10495
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " مَنْ مَثَّلَ بِأَخِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ ، وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَالْأَصَمُّ بْنُ هُرْمُزَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اپنے بھائی کا مثلہ کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی اصم بن ہرمز ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ مدلس ہے ، اور ایک راوی اصم بن ہرمز ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10496
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ : ¤ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مثلہ کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10497
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ أَنَّهُ نَهَى عَنِ النُّهْبَةِ وَالْمُثْلَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کوئی چیز ) لوٹ لینے اور مثلہ کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10498
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : جَاءَتْ أَسْمَاءُ مَعَ جَوَارٍ لَهَا ، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا ، فَقَالَتْ : أَيْنَ الْحَجَّاجُ ؟ فَقُلْنَا : لَيْسَ هَاهُنَا ، فَقَالَتْ : مُرُوهُ فَلْيَأْمُرْ لَنَا بِهَذِهِ الْعِظَامِ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -يَنْهَى عَنِ الْمُثْلَةِ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں : سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما اپنے ایک پڑوسی کے ساتھ آئیں ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی انہوں نے دریافت کیا : حجاج کہاں ہے ؟ ہم نے کہا: وہ یہاں نہیں ہے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اسے کہو کہ وہ یہ ہڈیاں ہمیں دیدے کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مثلہ کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10499
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ¤ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ ، وَنَهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ، اور ہمیں مثلہ کرنے سے منع کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10500
وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُرَاهُ ابْنَ عُمَرَ - قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَنْ مَثَّلَ بِذِي رُوحٍ ثُمَّ لَمْ يَتُبْ ، مَثَّلَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوصالح حنفی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے وہ صاحب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی ذی روح کا مثلہ کرے اور پھر اس عمل سے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا مثلہ کرے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے کسی شک کے بغیر نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت نقل کی ہے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے وہ صاحب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی ذی روح کا مثلہ کرے اور پھر اس عمل سے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا مثلہ کرے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے کسی شک کے بغیر نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔