کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نجد کی طرف بھیجی جانے والی جنگی مہم
حدیث نمبر: 10351
عَنْ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَعِينُهُ فِي صَدَاقِهَا ، فَقَالَ : " كَمْ أَصْدَقْتَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : مِائَتَيْ دِرْهَمٍ ، فَقَالَ : " لَوْ كُنْتُمْ تَغْرِفُونَ الدَّرَاهِمَ مِنْ وَادِيكُمْ هَذَا مَا زِدْتُمْ ، مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ " . فَمَكَثْتُ ثُمَّ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَنِي فِي سَرِيَّةٍ ، فَبَعَثَنَا نَحْوَ نَجْدٍ ، فَقَالَ : " اخْرُجْ فِي هَذِهِ السَّرِيَّةِ لَعَلَّكَ أَنْ تُصِيبَ شَيْئًا فَأُنْفِلَكَهُ " . ¤ قَالَ : فَخَرَجْنَا حَتَّى جِئْنَا الْحَاضِرَ مُمْسِينَ ، قَالَ : فَلَمَّا ذَهَبَتْ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ بَعَثَنَا أَمِيرُنَا رَجُلَيْنِ رَجُلَيْنِ ، قَالَ : فَأَحَطْنَا بِالْعَسْكَرِ ، وَقَالَ : إِذَا كَبَّرْتُ وَحَمَلْتُ فَكَبِّرُوا وَاحْمِلُوا ، وَقَالَ حِينَ بَعَثَنَا رَجُلَيْنِ رَجُلَيْنِ : لَا تَفْتَرِقَا ، وَلَا أَسْأَلَنَّ وَاحِدًا مِنْكُمَا عَنْ خَبَرِ صَاحِبِهِ فَلَا أَجِدُ عِنْدَهُ ، وَلَا تُمْعِنُوا فِي الطَّلَبِ . ¤ قَالَ : فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَحْمِلَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَ الْحَاضِرِ صَرَخَ يَا خَضْرَةُ ، قَالَ : فَتَفَاءَلْتُ بِأَنَّا سَنُصِيبُ مِنْهُمْ خُضْرَةً ، قَالَ : فَلَمَّا أَعْتَمْنَا كَبَّرَ أَمِيرُنَا وَكَبَّرْنَا وَحَمَلْنَا ، قَالَ : فَمَرَّ بِي رَجُلٌ فِي يَدِهِ السَّيْفُ وَاتَّبَعْتُهُ ، قَالَ : فَقَالَ لِي صَاحِبِي : إِنَّ أَمِيرَنَا قَدْ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلَّا تُمْعِنُوا فِي الطَّلَبِ فَارْجِعْ ، فَلَمَّا أَبَيْتُ إِلَّا أَتْبَعُهُ ، قَالَ : وَاللَّهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَيْهِ وَلَأُخْبِرَنَّهُ أَنَّكَ أَبَيْتَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَتْبَعَنَّهُ ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُ رَمَيْتُهُ بِسَهْمٍ عَلَى جُرَيْدَاءِ مَتْنِهِ فَوَقَعَ ، فَقَالَ : ادْنُ يَا مُسْلِمُ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَلَمَّا رَآنِي لَا أَدْنُو إِلَيْهِ ، وَضَرَبْتُهُ بِسَهْمٍ آخَرَ فَأَثْخَنْتُهُ ، رَمَانِي بِالسَّيْفِ فَأَخْطَأَنِي ، فَأَخَذْتُ السَّيْفَ فَقَتَلْتُهُ بِهِ ، وَاحْتَزَزْتُ بِهِ رَأْسَهُ ، وَشَدَدْنَا فَأَخَذْنَا نَعَمًا كَثِيرَةً وَغَنَمًا ، قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفْنَا . ¤ قَالَ : فَأَصْبَحْتُ فَإِذَا بَعِيرِي مَقْطُورٌ عَلَيْهِ امْرَأَةٌ جَمِيلَةٌ شَابَّةٌ ، قَالَ : فَجَعَلَتْ تَلْتَفِتُ خَلْفَهَا فَتُكْثِرُ ، فَقُلْتُ لَهَا : إِلَى أَيْنَ تَلْتَفِتِينَ ؟ قَالَتْ : إِلَى رَجُلٍ وَاللَّهِ إِنْ كَانَ حَيًّا خَالَطَكُمْ ، قَالَ : قُلْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ صَاحِبِيَ الَّذِي قَتَلْتُ : قَدْ وَاللَّهِ قَتَلْتُهُ وَهَذَا سَيْفُهُ وَهُوَ مُعَلَّقٌ بِقَتَبِ الْبَعِيرِ الَّذِي أَنَا عَلَيْهِ ، قَالَ : وَغِمْدُ السَّيْفِ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ مُعَلَّقٌ بِقَتَبِ بَعِيرِهَا فَلَمَّا قُلْتُ لَهَا ذَلِكَ قَالَتْ : فَدُونَكَ هَذَا الْغِمْدُ فَشِمْهُ فِيهِ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا ، قَالَ : فَأَخَذْتُهُ فَشِمْتُهُ فِيهِ قَطِيفَةً فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ بَكَتْ . قَالَ : فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطَانِي مِنْ تِلْكَ النَّعَمِ الَّتِي قَدِمْنَا بِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوحدرد اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی وہ اس خاتون کے مہر کے سلسلے میں مدد لینے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کتنا مہر طے کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : دو سو درہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اپنی اس وادی میں موجود تمام درہم بھی ان عورتوں کو دے دو تو یہ زیادہ ادائیگی نہیں ہو گی لیکن ابھی میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں : کچھ دیر گزرنے کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور ایک جنگی مہم میں بھجوایا آپ نے ہمیں نجد کی سمت بھجوایا آپ نے فرمایا : تم اس مہم میں جاؤ ہو سکتا ہے تمہیں کوئی ایسی چیز مل جائے جو میں تمہیں انعام کے طور پر دیدوں ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ نکلے ، یہاں تک کہ شام ہو گئی جب رات کا ابتدائی حصہ رخصت ہو گیا تو ہمارے امیر نے ہمیں دو دو کر کے بھیجنا شروع کیا ہم نے لشکر کو گھیر لیا امیر نے کہا: جب میں تکبیر کہوں ، اور حملہ کروں تو تم بھی تکبیر کہہ کر حملہ کر دینا ۔ راوی کہتے ہیں : جب انہوں نے ہمیں دو دو کر کے بھیجا تو انہوں نے کہا: تم ایک دوسرے سے جدا نہ ہونا اور تم دونوں میں سے کوئی چیز پانے والے شخص سے میں ہرگز اس کے ساتھی کے بارے میں کوئی دریافت نہ کروں اور پھر یہ نہ ہو کہ اس کے پاس کوئی اطلاع ہی نہ ملے اور تم ( دشمن یا مال غنیمت ) کی طلب میں کھو نہ جانا راوی کہتے ہیں : جب ہم نے حملہ کرنے کا ارادہ کیا ، تو میں نے وہاں موجود ایک شخص کو سنا ، جو کہہ رہا تھا اے سبزہ راوی کہتے ہیں : تو ہمیں اندازہ ہوا کہ وہاں سے سبزہ ملے گا جب رات ہو گئی ، تو ہمارے امیر نے تکبیر کہی ہم نے بھی تکبیر کہی اور حملہ کر دیا پھر میرے پاس سے ایک شخص گزرا جس کے ہاتھ میں تلوار موجود تھی میں نے اس کا پیچھا کیا میرے ساتھی نے مجھ سے کہا: ہمارے امیر نے ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ تم لوگوں نے دشمن کا پیچھا کرتے ہوئے زیادہ آگے نہیں جانا تو تم واپس آ جاؤ لیکن میں نے یہ بات نہیں مانی اور دشمن کے پیچھے چلا گیا تو میرے ساتھی نے کہا: اللہ کی قسم میں امیر کے پاس ضرورت واپس جا کر اسے یہ بات بتاؤں گا کہ تم نے یہ بات نہیں مانی راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم میں ضرور اس کا پیچھا کروں گا میں نے اس کا پیچھا کیا ، یہاں تک کہ جب میں اس کے قریب ہوا تو میں نے اسے تیر مارا جو اس کے جسم پر لگا ، تو وہ گر گیا اس نے کہا: اے مسلمان جنت کے قریب ہو جاؤ جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں اس کے قریب نہیں ہو رہا تو میں نے اسے ایک اور تیر مارا اور اسے زخمی کر دیا ، اس نے مجھے تلوار ماری وہ مجھے نہیں لگی میں نے تلوار پکڑی اور اس کے ذریعے اسے قتل کر دیا ، اور اس کے ذریعے اس کا سر اتار دیا ، اور اسے باندھ دیا وہاں ہمیں مال غنیمت میں بہت سے جانور اور بہت سی بکریاں ملیں پھر ہم واپس آ گئے جب صبح ہوئی ، تو میرے اونٹ کے پاس ایک خوبصورت نوجوان عورت موجود تھی وہ عورت اپنے پیچھے دیکھتی تھی اور بکثرت پیچھے دیکھ رہی تھی میں نے اس سے دریافت کیا : تم کیا دیکھ رہی ہو ؟ اس نے کہا: میں ایک شخص کو دیکھ رہی ہوں اللہ کی قسم اگر وہ زندہ ہوتا تو تم سے مل جاتا راوی کہتے ہیں : مجھے یہ اندازہ ہوا کہ یہ وہی شخص ہو گا جسے میں نے قتل کیا تھا تو میں نے کہا: اللہ کی قسم میں تو اسے قتل کر چکا ہوں ، اور یہ اس کی تلوار ہے اس کی تلوار اونٹ کے پالان کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی جس اونٹ پر میں موجود تھا راوی کہتے ہیں : لیکن پھر اونٹ کے پالان کے ساتھ جو میان لٹکی ہوئی تھی اس میں تلوار موجود نہیں تھی جب میں نے اس عورت سے یہ بات کہی تو اس نے کہا: تم اس میان کو سونگھ لینے دو ، اگر تم سچے ہو راوی کہتے ہیں : اس عورت نے اس کو پکڑا اور اسے سونگھا تو اسے اندازہ ہو گیا جب اس نے یہ صورت حال دیکھی تو وہ رونے لگی راوی کہتے ہیں : جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اونٹوں میں سے مجھے بھی عطا کیا جو ہم لے کے آپ کے پاس آئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10351
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (11/6)»