حدیث نمبر: 10114
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ - وَقَالَ الْفَزَارِيُّ مَرَّةً : عَنِ ابْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ غَيْرُ الْفَزَارِيِّ : عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ - قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ وَانْكَفَأَ الْمُشْرِكُونَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَوُوا حَتَّى أُثْنِيَ عَلَى رَبِّي " ، فَصَارُوا خَلْفَهُ صُفُوفًا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ ، اللَّهُمَّ لَا قَابِضَ لِمَا بَسَطْتَ ، وَلَا بَاسِطَ لِمَا قَبَضْتَ ، وَلَا هَادِيَ لِمَا أَضْلَلْتَ ، وَلَا مُضِلَّ لِمَنْ هَدَيْتَ ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ، وَلَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ، وَلَا مُقَرِّبَ لِمَا بَاعَدْتَ ، وَلَا مُبْعِدَ لِمَا قَرَّبْتَ ، اللَّهُمَّ ابْسُطْ عَلَيْنَا مِنْ بَرَكَاتِكَ وَرَحْمَتِكَ وَفَضْلِكَ وَرِزْقِكَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ الْمُقِيمَ الَّذِي لَا يَحُولُ وَلَا يَزُولُ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ النَّعِيمَ يَوْمَ الْعِيلَةِ ، وَالْأَمْنَ يَوْمَ الْخَوْفِ ، اللَّهُمَّ عَائِذٌ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا أَعْطَيْتَنَا ، وَشَرِّ مَا مَنَعْتَ مِنَّا ، اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْإِيمَانَ ، وَزَيِّنْهُ فِي قُلُوبِنَا ، وَكَرِّهْ إِلَيْنَا الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ ، وَاجْعَلْنَا مِنَ الرَّاشِدِينَ ، اللَّهُمَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ ، وَأَحْيِنَا مُسْلِمِينَ ، وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ ، غَيْرَ خَزَايَا وَلَا مَفْتُونِينَ ، اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ ، وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ ، وَاجْعَلْ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ ، اللَّهُمَّ قَاتِلْ كَفَرَةَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَهَ الْخَلْقِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَاقْتَصَرَ عَلَى عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَهُوَ الصَّحِيحُ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ قَاتِلْ كَفَرَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن عبدالله زرقی نے ، اپنے والد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ایک مرتبہ فزاری نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ ابن رفاعہ زرقی کے حوالے سے ، اُن کے والد سے منقول ہے ، جبکہ فزاری کے علاوہ دیگر حضرات نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : یہ عبید بن رفاعہ زرقی کے حوالے سے منقول ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : ” غزوہ احد کے موقع پر جب مشرکین پسپا ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ سیدھے ہو جاؤ ! تاکہ میں اپنے پروردگار کی تعریف بیان کروں “ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! ساری کی ساری حمد ، تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، اے اللہ ! جسے تو کشادگی عطا کر دے ، اسے تنگی کا شکار کرنے والا کوئی نہیں ہے ، اور جسے تو تنگی کا شکار کر دے ، اُسے کشادگی دینے والا کوئی نہیں ہے ، جسے تو گمراہ کر دے ، اُسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہے ، اور جسے تو ہدایت دیدے ، اُسے گمراہ کرنے والا کوئی نہیں ہے ، جسے تو نہ دے اُسے دینے والا کوئی نہیں ہے ، اور جسے تو دے ، اُسے روکنے والا کوئی نہیں ہے ، جسے تو دور کر دے ، اُسے قریب کرنے والا کوئی نہیں ہے ، جسے تو قریب کر دے ، اُسے دور کرنے والا کوئی نہیں ہے ، اے اللہ ! اپنی برکتیں ، اپنی رحمتیں ، اپنا فضل اور اپنا رزق ہم پر پھیلا دے ، اے اللہ ! میں قائم رہنے والی ان نعمتوں کا تجھ سے سوال کرتا ہوں جن میں رکاوٹ نہیں آئے گی ۔ اور جو زائل نہیں ہوں گی ، اے اللہ ! میں تنگی کے دن ، نعمتوں کا اور خوف کے دن ، امن کا تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اے اللہ ! تو نے جو ہمیں عطا کیا ہے ، اس کے شر سے ، اور جو تو نے ہمیں نہیں دیا ہے ، اُس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! ہمارے لئے ایمان کو محبوب کر دے ، اُسے ہمارے دلوں میں آراستہ کر دے ، اور کفر ، فسق اور گناہوں کو ، ہمارے نزدیک ناپسندیدہ کر دے ، اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں سے بنا دے ، اے اللہ ! تو ہمیں مسلمان ہونے کے عالم میں موت دینا ، اور مسلمان ہونے کے عالم میں زندہ رکھنا ، اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ شامل کر دینا ، جو کسی رسوائی اور آزمائش کا شکار ہوئے بغیر ہو ، اے اللہ ! کافروں کو برباد کر دے ، جنہوں نے تیرے رسولوں کو جھٹلایا ، یا تیرے راستے سے روکا ، اپنی سختی اور اپنا عذاب اُن ( کافروں ) پر نازل کر دے اے اللہ ! ان کافروں کو برباد کر دے ، جنہیں کتاب دی گئی ، اے حقیقی معبود ! “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے عبید بن رفاعہ کے ان کے والد سے منقول روایت پر منحصر کیا ہے اور یہی صحیح ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! اہل کتاب کے ( یعنی ان سے تعلق رکھنے والے ) کافروں کو برباد کر دے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے عبید بن رفاعہ کے ان کے والد سے منقول روایت پر منحصر کیا ہے اور یہی صحیح ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ” اے اللہ ! اہل کتاب کے ( یعنی ان سے تعلق رکھنے والے ) کافروں کو برباد کر دے “ ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔