حدیث نمبر: 9938
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ جَاءَتْ جُهَيْنَةُ ، فَقَالُوا : إِنَّكَ قَدْ نَزَلْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَأَوْثِقْ لَنَا حَتَّى نَأْتِيَكَ تُؤَمِّنُنَا ، فَأَوْثَقَ لَهُمْ فَأَسْلَمُوا . ¤ قَالَ : فَبَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رَجَبٍ وَلَا نَكُونُ مِائَةً ، وَأَمَرَنَا أَنْ نُغِيرَ عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ إِلَى جَنْبِ جُهَيْنَةَ ، فَأَغَرْنَا عَلَيْهِمْ ، وَكَانُوا كَثِيرًا فَلَجَأْنَا إِلَى جُهَيْنَةَ فَمَنَعُونَا ، وَقَالُوا : لِمَ تُقَاتِلُونَ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ؟ فَقُلْنَا : إِنَّا إِنَّمَا نُقَاتِلُ مَنْ أَخْرَجَنَا مِنَ الْبَلَدِ الْحَرَامِ فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : مَا تَرَوْنَ ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا : نَأْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنُخْبِرُهُ ، وَقَالَ قَوْمٌ : لَا بَلْ نُقِيمُ هَاهُنَا ، وَقُلْتُ أَنَا فِي أُنَاسٍ مَعِي : لَا بَلْ نَأْتِي عِيرَ قُرَيْشٍ فَنَقْتَطِعُهَا ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْعِيرِ وَكَانَ الْفَيْءُ إِذْ ذَاكَ : مَنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ ، فَانْطَلَقْنَا إِلَى الْعِيرِ ، وَانْطَلَقَ أَصْحَابُنَا إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ فَقَامَ غَضْبَانَ مُحْمَرَّ الْوَجْهِ ، فَقَالَ : " أَذَهَبْتُمْ مِنْ عِنْدِي جَمِيعًا وَجِئْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ ، إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ الْفُرْقَةُ ، لَأَبْعَثَنَّ عَلَيْكُمْ رَجُلًا لَيْسَ بِخَيْرِكُمْ أَصْبَرَكُمْ عَلَى الْجُوعِ وَالْعَطَشِ " . فَبَعَثَ عَلَيْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَحْشٍ ، فَكَانَ أَوَّلَ أَمِيرٍ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَنْهُ وِجَادَةً ، وَوَصَلَهُ عَنْ غَيْرِ أَبِيهِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَلَفْظُهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ : أَوَّلُ أَمِيرٍ عُقِدَ لَهُ فِي الْإِسْلَامِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَحْشٍ عَقَدَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْنَا . ¤ وَفِيهِ الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ ، وَوَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ فِي رِوَايَةٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو جہینہ قبیلے کے لوگ آئے اور بولے : آپ نے ہمارے درمیان میں پڑاؤ کیا ہے ، تو آپ ہمارے ساتھ یہ معاہدہ کریں کہ ہم آپ کے پاس امن کی حالت میں آ سکیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ طے کیا ، تو ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رجب کے مہینے میں بھیجا ہم ایک سو افراد نہیں تھے ، آپ نے ہمیں یہ حکم دیا کہ جہینہ قبیلے کے پہلو میں ، موجود کنانہ قبیلے پر ہم نے حملہ کرنا ہے ، ہم نے ان لوگوں پر حملہ کیا ان کی تعداد زیادہ تھی ، ہم لوگ پناہ کے لئے جہینہ قبیلے کی طرف گئے ، تو انہوں نے ہمیں روکا اور بولے : تم لوگ حرمت والے مہینے میں کیوں جنگ کر رہے ہو ؟ ہم نے کہا: ہم ان لوگوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں ، جنہوں نے حرمت والے مہینے میں ہمیں حرمت والے شہر سے نکال دیا تھا ، انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم لوگوں کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟ تو ان میں سے کسی نے کہا: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاتے ہیں ، تو دوسرے لوگوں نے کہا: جی نہیں ! بلکہ ہم یہیں مقیم رہیں گے ، میں نے اپنے ساتھی لوگوں سے کہا: جی نہیں ! بلکہ ہم قریش کے قافلے کی طرف جاتے ہیں اور اُسے راستے میں روک لیں گے ، تو ہم قافلے کی طرف گئے اس زمانے میں مال غنیمت کا اصول یہ ہوتا تھا کہ جو شخص جو چیز لے گا ، وہ اس کی ہو گی ہم قافلے کی طرف گئے ، ہمارے ساتھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے گئے ، آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے کے عالم میں کھڑے ہو گئے ، آپ کا چہرہ سرخ تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ میرے پاس سے اکٹھے گئے تھے اور اب تم الگ ، الگ ہو کر آ رہے ہو ؟ تم سے پہلے کے لوگوں کو فرقہ بندی نے ہلاکت کا شکار کر دیا تھا ، اب میں تم پر ایک ایسے شخص کو امیر بنا کر بھیجوں گا ، جو تم میں سب سے بہتر نہیں ہے ، لیکن وہ بھوک اور پیاس کے حوالے سے ، تم میں سب سے زیادہ صبر کرنے والا ہے “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر مقرر کیا ، تو یہ وہ پہلے امیر تھے ، جنہیں اسلام میں امیر مقرر کیا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، ان سے
یہ روایت ان کے صاحبزادے نے ” وجادہ“ کے طور پر نقل کی ہے اور اپنے والد کے علاوہ اسے ” موصول “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، یہی روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” سیدنا سعید رضی اللہ عنہ ( یا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں : وہ پہلے امیر ، جنہیں اسلام میں امیر مقرر کیا گیا ، وہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، ان سے
یہ روایت ان کے صاحبزادے نے ” وجادہ“ کے طور پر نقل کی ہے اور اپنے والد کے علاوہ اسے ” موصول “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، یہی روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ” سیدنا سعید رضی اللہ عنہ ( یا سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ) بیان کرتے ہیں : وہ پہلے امیر ، جنہیں اسلام میں امیر مقرر کیا گیا ، وہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارا امیر مقرر کیا تھا ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، ایک روایت کے مطابق امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 9939
وَعَنْ زِرٍّ قَالَ : أَوَّلُ رَايَةٍ رُفِعَتْ فِي الْإِسْلَامِ رَايَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ ، وَأَوَّلُ مَالٍ خُمِّسَ فِي الْإِسْلَامِ ، مَالُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ . رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ وَاحِدٍ ، وَهُوَ إِسْنَادٌ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
زربن حبیش بیان کرتے ہیں : پہلا جھنڈا ، جو اسلام میں بلند کیا گیا ، وہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا جھنڈا تھا اور اسلام میں جو پہلا خمس مال حاصل ہوا ، وہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا لایا ہوا مال تھا ، ( یا وہ مال تھا جو سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو خمس کے طور پر ملا تھا ) ۔ یہ دونوں روایات ، امام طبرانی نے ایک ہی سند کے ساتھ نقل کی ہیں اور وہ سند حسن ہے ۔