کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قتل کے وقت کیا پڑھا جائے
حدیث نمبر: 9680
عَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ " . ¤ قَالَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ تُصْرَعُ ، تَضْرِبُهَا الْمَلَائِكَةُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهَا وَمِنْ خَلْفِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ هَاشِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوئے میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ” اے مالک یوم الدین ایاک نعبد و ایاک نستعین“ ۔ ( راوی کہتے ہیں : میں نے دشمن کے ) افراد کو دیکھا کہ وہ پچھاڑے جا رہے تھے فرشتے انہیں آگے اور پیچھے سے مار رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالسلام بن ہاشم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9680
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9681
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا فَجَبُنَ ، فَجَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ ، قُتِلَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ ، وَسَلُوا اللَّهَ الْعَافِيَةَ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا تُبْتَلَوْنَ بِهِ مِنْهُمْ ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَقُولُوا : اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّنَا وَرَبُّهُمْ وَنَوَاصِينَا وَنَوَاصِيهِمْ بِيَدِكَ وَإِنَّمَا تَقْتُلُهُمْ أَنْتَ ، ثُمَّ الْزَمُوا الْأَرْضَ جُلُوسًا فَإِذَا غَشَوْكُمْ فَانْهَضُوا وَكَبِّرُوا " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ بِطُولِهِ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ : شَيْخٌ صَالِحٌ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بھیجا وہ بزدلی کا شکار ہو گیا سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آج کے دن کی طرح کا کوئی دن کبھی نہیں دیکھا محمد بن مسلمہ قتل ہو جائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم دشمن کا سامنا کرنے کی آرزو نہ کرو تم اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو کیونکہ تم یہ بات نہیں جانتے کہ ان کے حوالے سے تم کس آزمائش میں مبتلاء ہو جاتے ہو اگر تم ان کا سامنا کرو تو تم یہ پڑھو : اے اللہ ! تو ہمارا پروردگار ہے اور ان کا پروردگار ہے ہماری پیشانیاں اور ان کی پیشانیاں تیرے دست قدرت میں ہیں “ ۔ تم جنگ میں حصہ لو پھر زمین پر بیٹھ جاؤ اگر وہ تم پر حملہ کر دیں ، تو اٹھ کھڑے ہو اور تکبیر کہو ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو طویل حدیث کے طور پر غزوہ خیبر سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فضیل بن عبدالوہاب ہے ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ ایک نیک بزرگ ہے اسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف