کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: شہادت کی آرزو کرنا
حدیث نمبر: 9535
عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنَ النَّاسِ نَفْسُ [ مُسْلِمٍ ] يَقْبِضُهَا رَبُّهَا - عَزَّ وَجَلَّ - تُحِبُّ أَنْ تَعُودَ إِلَيْكُمْ وَأَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا غَيْرَ الشَّهِيدِ " . ¤ وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ لَأَنْ ] أُقْتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي أَهْلُ الْمَدَرِ وَالْوَبَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابن ابوعمیرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” لوگوں میں سے جس بھی مسلمان کی جان اس کا پروردگار قبض کرتا ہے ان میں سے کوئی بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ تم لوگوں کی طرف واپس آئے اگرچہ اسے دنیا اور اس میں موجود سب کچھ مل جائے البتہ شہید کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ سیدنا ابن ابوعمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اللہ کی راہ میں قتل ہو جاؤں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ تمام شہری اور دیہاتی آبادی میری ہو جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9535
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (216/4)»
حدیث نمبر: 9536
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزْوَةً فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ غَنِّمْهُمْ وَسَلِّمْهُمْ " . قَالَ : فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا . ¤ قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزْوًا ثَانِيًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا ثَالِثًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَتَيْتُكَ مَرَّتَيْنِ قَبْلَ هَذِهِ فَسَأَلْتُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقُلْتَ : " اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ " فَسَلِمْتُ وَغَنِمْتُ ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ قَالَ : فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ - وَقَدْ تَقَدَّمَ بِتَمَامِهِ فِي الصَّوْمِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگ کی تیاری شروع کی میں آپ کے پاس آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے شہادت کی دعا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو انہیں غنیمت عطا فرما اور انہیں سلامت رکھنا ۔ راوی کہتے ہیں : ہم سلامت بھی رہے اور ہمیں غنیمت بھی مل گئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری جنگ کی تیاری شروع کی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی اے اللہ ! تو انہیں سلامت رکھنا اور تو انہیں غنیمت عطا کرنا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری جنگی مہم کی تیاری کی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس سے پہلے آپ کی خدمت میں دو مرتبہ حاضر ہو چکا ہوں اور میں نے آپ سے یہ گزارش کی تھی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے شہادت کی دعا کریں ، تو آپ نے یہ فرمایا : اے اللہ ! تو انہیں سلامت رکھنا اور انہیں غنیمت عطا کرنا تو میں سلامت بھی رہا اور مجھے غنیمت بھی حاصل ہوئی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے شہادت کی دعا کیجئے راوی کہتے ہیں : تو ہم سلامت بھی رہے اور ہمیں غنیمت بھی حاصل ہوئی ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے کتاب الصوم میں مکمل روایت کے طور پر گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد کے صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9536
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7463 و 7464 و 7465) اخرجه أحمد فى المسند (248/5)»