کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: غازیوں کے جانوروں کا بیان اور گھنٹیوں کے مکروہ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 9377
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَنْزِلُونَ كُلَّ لَيْلَةٍ يَحْبِسُونَ الْكِلَابَ عَنْ دَوَابِّ الْغُزَاةِ ، إِلَّا دَابَّةً فِي عُنُقِهَا جَرَسٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَدْفَعُ عَدَالَتَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں ، جو ہر رات میں نازل ہوتے ہیں اور وہ غازیوں کے جانوروں سے کتوں کو دور رکھتے ہیں البتہ اس جانور کا معاملہ مختلف ہے جس کی گردن میں گھنٹی موجود ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کے بعض راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو ان کی عدالت کو پرے نہیں کرتا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9377
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف