حدیث نمبر: 9374
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَلْفَهُ ، وَقُثَمُ أَمَامَهُ . ¤ قُلْتُ : إِرْدَافُهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پچھے بٹھا لیا اور قثم کو اپنے آگے بٹھا لیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو پیچھے بٹھانے والی حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 9375
وَلَهُ عِنْدُ الْبَزَّارِ قَالَ : أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ جَمْعٍ أَوْ عَرَفَةَ وَقُثَمُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَالْفَضْلُ خَلْفَهُ . ¤ وَإِرْدَافُهُ لِلْفَضْلِ فِي الصَّحِيحِ . ¤ وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان صحابی کے حوالے سے امام بزار نے
یہ روایت نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے یا شاید عرفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا قثم رضی اللہ عنہ آپ کے آگے بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھانے والی حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔ امام أحمد اور امام بزار کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ سے یا شاید عرفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا قثم رضی اللہ عنہ آپ کے آگے بیٹھے ہوئے تھے اور سیدنا فضل رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھانے والی حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔ امام أحمد اور امام بزار کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔