کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص دین کو اس زمین کے علاوہ جگہ پر قائم رکھے جس کی طرف اس نے ہجرت کی تھی اور وہ جگہ وہ ہو جہاں وہ پہلے تھا
حدیث نمبر: 9287
عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّهُ لَيْسَ لَنَا أَجْرٌ بِمَكَّةَ ؟ فَقَالَ : " لَتَأْتِينَّكُمْ أُجُورُكُمْ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي جُحْرِ ثَعْلَبٍ " . قَالَ : فَأَصْغَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ فِي أَصْحَابِي مُنَافِقِينَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ یہ کہتے ہیں : ہمارے لئے مکہ میں اجر نہیں ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے اجور عنقریب تم تک آ جائیں گے خواہ تم لومڑی کی بل میں ہو ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سر بڑھایا اور فرمایا : میرے ساتھیوں میں کچھ لوگ منافق ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9287
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (7405) اخرجه احمد فى المسند (82/4)»
حدیث نمبر: 9288
وَعَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ حِبَّانَ قَالَ : أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ ؟ خَرَجْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ حَيْدَةَ فِي طَرِيقِ الشَّامِ فَمَرَرْنَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِكُمَا أَعْرَابِيٌّ جَافٍ جَرِيءٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ الْهِجْرَةُ ؟ إِلَيْكَ حَيْثُمَا كُنْتَ ، أَمْ إِلَى أَرْضٍ مَعْلُومَةٍ ، أَمْ لِقَوْمٍ خَاصَّةً ، أَمْ إِذَا مِتَّ انْقَطَعَتْ ؟ قَالَ : فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً ثُمَّ قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْهِجْرَةِ ؟ " قَالَ : هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ وَآتَيْتَ الزَّكَاةَ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ ، وَإِنْ مِتَّ بِالْحَضْرَمَةِ " . قَالَ : يَعْنِي أَرْضًا بِالْيَمَامَةِ . ¤
محمد محی الدین
فرزدق بن حبان بیان کرتے ہیں : کیا میں تم لوگوں کو وہ حدیث بیان نہ کروں ؟ جسے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ کیا اور اس کے بعد میں اسے نہیں بھولا ہوں ، ایک مرتبہ میں اور عبیداللہ بن حیدہ شام کے راستے میں تھے ہمارا گزر سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا تو انہوں نے بتایا تم دونوں کی قوم سے تعلق رکھنے والا ایک دیہاتی شخص جو جرات مند تھا وہ آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہجرت کہاں ہو گی آپ کی طرف خواہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں یا کسی متعین سرزمین کی طرف ؟ یا کسی مخصوص قوم کی طرف یا جب آپ کا وصال ہو جائے گا ، تو یہ ختم ہو جائے گی ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھوڑی دیر کے لئے خاموش رہے پھر آپ نے فرمایا : ہجرت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہاں ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم نماز قائم کرو ، اور زکوۃ ادا کرو تو تم مہاجر ہو گے اگرچہ تم ” حضرمہ “ میں مر جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : یہ یمامہ میں موجود ایک جگہ کا نام ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9288
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (6890 و 7095)»
حدیث نمبر: 9289
وَفِي رِوَايَةٍ : " الْهِجْرَةُ أَنْ تَهْجُرَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ فَأَنْتَ مُهَاجِرٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ حَسَنٌ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ہجرت یہ ہے کہ تم برائیوں سے لاتعلق رہو ان میں سے جو ظاہر ہیں یا جو پوشیدہ ہیں اور تم نماز قائم کرو ، اور تم زکوۃ ادا کرو تو تم مہاجر ہو گئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک حسن ہے یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجهاد / حدیث: 9289
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (224/2)»