کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: برے اہلکاروں اور ظالموں کے مددگاروں کا بیان
حدیث نمبر: 9177
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ أُمَرَاءُ ظَلَمَةٌ وَوُزَرَاءُ فَسَقَةٌ وَقُضَاةٌ خَوَنَةٌ وَفُقَهَاءٌ كَذَبَةٌ ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ مِنْكُمْ فَلَا يَكُونَنَّ لَهُمْ جَابِيًا وَلَا عَرِيفًا وَلَا شُرَطِيًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُرَاسَانِيُّ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : لَا بَأْسَ بِهِ ، وَقَالَ الْأَزْدِيُّ : ضَعِيفٌ جِدًّا . وَمُعَاوِيَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آخری زمانے میں ، ظالم حکمران ہوں گے ، فاسق وزراء ہوں گے ، خیانت کرنے والے قاضی ہوں گے ، جھوٹ بولنے والے علماء ہوں گے ، تم میں سے جو شخص وہ زمانہ پائے ، وہ اُن کے لیے جابی ، یا عریف ، یا سپاہی ، ( یعنی سرکاری اہلکار ) ہرگز نہ بنے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن سلیمان خراسانی ہے ، امام طبرانی کہتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، ازدی کہتے ہیں : یہ انتہائی ضعیف ہے ، اس میں ایک راوی معاویہ بن ہیثم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9177
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (564)»
حدیث نمبر: 9178
وَعَنْ أَبِي الْوَلِيدِ الْقُرَشِيِّ قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ بِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ فَقَالَ : أَصْلَحَ اللَّهُ الْأَمِيرَ إِنَّ أَهْلَ الطَّفِّ لَا يُؤَدُّونَ زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ . فَقَالَ : وَمَا كَانَ قَالَهُ قَدْ عَلِمْتُ ذَلِكَ فَأَخْبَرْتُ الْأَمِيرَ فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مَنْ عَبْدِ الْقَيْسِ . فَقَالَ : مَا اسْمُكَ ؟ فَقَالَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ . فَكَتَبَ إِلَى صَاحِبِ شُرْطَتِهِ فَقَالَ : ابْعَثْ إِلَى عَبْدِ الْقَيْسِ . فَسَأَلَ عَنْ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيهِمْ ؟ فَرَجَعَ الرَّسُولُ فَقَالَ : وَجَدْتُهُ يُغْمَزُ فِي حَسَبِهِ . فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَبْغِي عَلَى النَّاسِ إِلَّا وَلَدُ بَغِيٍّ وَإِلَّا مَنْ فِيهِ عِرْقٌ مِنْهُ " . وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ : " لَا يَسْعَى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَأَبُو الْوَلِيدِ الْقُرَشِيُّ مَجْهُولٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوولید قریشی بیان کرتے ہیں : میں بلال بن ابوبردہ کے پاس موجود تھا ، عبدالقیس قبیلے سے تعلق رکھنے والا ، ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: اللہ تعالیٰ امیر کو ٹھیک رکھے ” طف “ کے رہنے والے لوگ اپنے اموال کی زکوۃ ادا نہیں کرتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس نے جو بات بیان کی تھی ، مجھے اُس کا علم تھا ، میں نے اس بارے میں امیر کو بتایا ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : عبدالقیس قبیلے سے ، انہوں نے فرمایا : تمہارا نام کیا ہے ؟ اس نے بتایا : فلاں بن فلاں ، انہوں نے وہاں کے کوتوال کو خط لکھا اور فرمایا : تم عبدالقیس قبیلے میں کسی کو بھیج کر فلاں بن فلاں کے بارے میں دریافت کرو کہ اُن کے درمیان اس شخص کا حسب کیسا ہے ؟ قاصد واپس آیا اور اس نے بتایا : میں نے یہ بات پائی ہے کہ اُس کے حسب پر اعتراض کیا جاتا ہے ، تو بلال بن ابوبردہ نے فرمایا : اللہ اکبر ! میرے والد نے ، میرے دادا سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” لوگوں کے خلاف سرکشی وہ شخص کرے گا ، جو سرکشی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہو گا یا اس ( کی پیدائش ) میں اُس ( سرکشی ) کا حصہ ہو گا “ ۔ ابوولید نامی راوی نے یہ لفظ نقل کیے ہیں : ” وہ ( لوگوں کے خلاف ) کوشش کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابوولید قرشی نامی راوی مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9178
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 9179
وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِيصَةَ أَوْ قَبِيصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ فَلَمَّا صَلُّوا قَالَ شَابٌّ مِنْهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّهُ سَيُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا وَإِنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَدَّى الْأَمَانَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ شَقِيقُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
مسعود بن قبیصہ یا شاید قبیصہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : انہوں نے محارب قبیلے کے علاقے میں ، صبح کی نماز ادا کی ، جب اُن لوگوں نے نماز ادا کر لی ، تو اُن میں سے ایک نوجوان نے یہ بات بتائی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب زمین کے مشرقی اور مغربی علاقے تمہارے لیے فتح ہو جائیں گے اور وہاں کے اہلکار جہنم میں جائیں گے البتہ اُن لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، جو اللہ سے ڈریں اور امانت ادا کریں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شقیق بن حیان ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9179
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (367 و 366/5)»
حدیث نمبر: 9180
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ أُمَرَاءَ كَذَبَةً ، وَوُزَرَاءَ فَجَرَةً ، وَأُمَنَاءَ خَوَنَةً ، وَقُرَّاءً فَسَقَةً ، سِمَتُهُمْ سِمَةُ الرُّهْبَانِ وَلَيْسَ لَهُمْ رَغْبَةٌ - أَوْ قَالَ : رَعِيَّةٌ أَوْ قَالَ : رِعَةٌ - فَيُلْبِسُهُمُ اللَّهُ فِتْنَةً غَبْرَاءَ مُظْلِمَةً ، يَتَهَوَّكُونَ فِيهَا تَهَوُّكَ الْيَهُودِ فِي الظُّلْمِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ عِمْرَانَ الْكَلَاعِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہو گی ، جب تک اللہ تعالیٰ جھوٹے حکمرانوں ، گناہگار وزیروں ، خیانت کرنے والے امینوں اور فاسق علماء کو نہیں بھیجے گا ، جن کا ظاہری حلیہ راہبوں جیسا ہو گا اور انہیں کوئی رغبت نہیں ہو گی ۔ یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں تاریک ، غبار آلود فتنے کا شکار کر دے گا ، جس میں وہ یوں بھٹکتے پھریں گے ، جس طرح یہودی ، ظلم کرنے میں بھٹکتے پھرتے تھے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن عمران کلاعی ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9180
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1601)»
حدیث نمبر: 9181
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ذَكَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آَخِرِ الزَّمَانِ " أَوْ قَالَ : " يَخْرُجُ رِجَالٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِي آَخِرِ الزَّمَانِ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْبَقَرِ يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي غَضَبِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس امت میں آخری زمانے میں ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں ۔ آخری زمانے میں ، اس امت میں ، ایسے لوگ نکلیں گے ، جن کے ساتھ گائے کی دموں کی طرح کے کوڑے ہوں گے ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور اُس کے غضب میں شام کریں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9181
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ اس
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (8000) اخرجه احمد فى المسند (250/5)»
حدیث نمبر: 9182
وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ : " فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْ بَطَانَتِهِمْ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تم اس بات سے بچنا کہ تم ان کے ساتھی بنو“ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9182
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7616)»
حدیث نمبر: 9183
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ يُوشِكُ أَنْ تَرَى أَقْوَامًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَةِ اللَّهِ بِأَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر تمہاری زندگی طویل ہوئی ، تو تم عنقریب ایسے لوگوں کو دیکھو گے ، جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں صبح کریں گے اور اُس کی لعنت میں شام کریں گے ، اُن لوگوں کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح کے کوڑے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9183
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1628)»
حدیث نمبر: 9184
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : رَأَيْنَا كُلَّ شَيْءٍ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " رِجَالٌ يُقَالُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : ضَعُوا أَسْيَاطَكُمْ وَادْخُلُوا النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے ہر وہ چیز دیکھ لی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے بیان کی تھی ، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا تھا : ” کچھ لوگ ایسے ہوں گے ، جنہیں قیامت کے دن یہ کہا: جائے گا : تم اپنے کوڑے کو رکھ دو ! اور جہنم میں داخل ہو جاؤ ! “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9184
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1629)»
حدیث نمبر: 9185
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِنَّهَا تَعْدِلُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ " . ¤ قَالَ : " وَلَابُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ عَرِيفٍ وَالْعَرِيفُ فِي النَّارِ ، وَيُؤْتَى بِالشُّرَطِيِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُ : ضَعْ سَوْطَكَ وَادْخُلِ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی ایک یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ وہ رات کے وقت سورۂ اخلاص پڑھ لے ؟ کیونکہ یہ پورے قرآن کے برابر ہے “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” لوگوں کے لیے عریف ( یعنی سرکاری اہلکار ) کا ہونا ضروری ہے اور عریف ، جہنم میں جائے گا ، قیامت کے دن کوتوال کو لایا جائے گا اور اس سے یہ کہا: جائے گا : تم اپنا کوڑا رکھ دو اور جہنم میں داخل ہو جاؤ ! “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن میمون ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9185
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (1481 و 4136)»
حدیث نمبر: 9186
وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ : رَأَى أَبُو هُرَيْرَةَ رَجُلًا فَأَعْجَبَتْهُ هَيْئَتُهُ فَقَالَ : مِمَّنِ الرَّجُلُ ؟ قَالَ : رَجُلٌ مِمَّنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ . قَالَ : فَكُلُّنَا مِمَّنْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ . قَالَ : كُلُّنَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنَ النِّبْطِ . قَالَ : تَنَحَّ عَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَتَلَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَعْوَانُ الظَّلَمَةِ فَإِذَا اتَّخَذُوا الرِّبَاعَ وَشَيَّدُوا الْبُنْيَانَ فَالْهَرَبَ الْهَرَبَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مِغْوَلٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
امام شعبی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا اُس کی ہیئت انہیں اچھی لگی ، انہوں نے دریافت کیا : یہ شخص کس سے تعلق رکھتا ہے ؟ تو اس نے بتایا : یہ ان لوگوں میں سے ہے ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے ، سیدنا ابوہریرہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم سب اُن لوگوں میں سے ہیں ، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے ، تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : اہل زمین سے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم سب اہل زمین سے ہیں ، تمہارا تعلق کس سے ہے ؟ اس نے کہا: نبطیوں ( یہ عراق اور اردن کے درمیان رہنے والی ایک قوم ہے ) سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھ سے دور ہو جاؤ ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ لوگ انبیاء کے قاتل اور ظالموں کے مددگار ہیں ، جب یہ لوگ زمینیں کھانا شروع کریں ، اور عمارتیں قائم کریں ، تو ان سے دور ) بھاگ جانا ، بھاگ جانا ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغوول ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9186
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 9187
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : تَنَاوَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ رَجُلًا بِشَيْءٍ فَنَهَاهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقَالَ : أَغْضَبْتَ الْأَمِيرَ . فَأَتَاهُ فَقَالَ : لَمْ أُرِدْ أَنْ أُغْضِبَكَ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّهُمْ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ : فَقِيلَ لَهُ : أَغْضَبْتَ الْأَمِيرَ . وَزَادَ : اذْهَبْ فَخَلِّ سَبِيلَهُمْ . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا خَالِدَ بْنَ حَكِيمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي النُّصْحِ لِلْأَئِمَّةِ . ¤
محمد محی الدین
خالد بن حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو برا بھلا کہا: ، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا تو وہ بولے : تم نے امیر کو غضبناک کر دیا ہے ؟ وہ اُن کے پاس آئے اور بولے : میں نے آپ کو غضبناک کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن ، سب سے زیادہ سخت عذاب ، اُن لوگوں کو ہو گا ، جو دنیا میں لوگوں کو زیادہ سخت عذاب دیتے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اُن سے کہا: گیا : آپ نے امیر کو غضبناک کر دیا ہے ؟ “ اور یہ الفاظ بھی زائد ہیں : ” تم جاؤ اور ان لوگوں کو چھوڑ دو ! “ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف خالد بن حکیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، اس سے پہلے حکمرانوں کی خیر خواہی کے بارے میں حدیث گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الخلافة / حدیث: 9187
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4122 و 4121 و 3824) اخرجه احمد فى المسند (90/4)»