کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: ریشم اور سونے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8636
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا يَرْجُو أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ [ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ ] . ¤ قَالَ الْحَسَنُ : فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْلُغُهُمْ هَذَا عَنْ نَبِيِّهِمْ فَيَجْعَلُونَ حَرِيرًا فِي ثِيَابِهِمْ وَ[ فِي ] بُيُوتِهِمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا میں ریشم وہ شخص پہنے گا ، جو یہ امید نہ رکھتا ہو کہ وہ آخرت میں اس کو پہنے گا ، ریشم وہ پہنے گا جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا“ ۔ حسن بصری فرماتے ہیں : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ان کے نبی کے حوالے سے ان تک یہ بات پہنچی ہے ، اور پھر بھی وہ اپنے کپڑوں میں ریشم شامل کر لیتے ہیں اور اپنے گھروں میں بھی استعمال کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8636
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2997) اخرجه احمد فى المسند (329/2)»
حدیث نمبر: 8637
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتْبَعُ الْحَرِيرَ مِنَ الثِّيَابِ فَيَنْزِعُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا أَبَا سَعِيدٍ الْغِفَارِيَّ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے میں سے ریشم تلاش کر کے اسے الگ کر دیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوسعید غفاری کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8637
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 8638
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ كَانَ يُقِيمُ حُلَّةَ حَرِيرٍ ، فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا إِذَا جَاءَكَ وُفُودُ النَّاسِ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عطارد تمیمی ریشم کا حلہ فروخت کر رہا ہے اگر آپ اسے خرید لیں اور جب لوگوں کے وفود آپ کے پاس آئیں ، تو آپ اسے پہن لیں ( تو یہ مناسب ہو گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ریشم وہ شخص پہنے گا ، جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8638
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2997) اخرجه أحمد فى المسند (337/2)»
حدیث نمبر: 8639
وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ الرَّحْبِيِّ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ دَخَلَ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ وَأَلْقَى لَهُ وِسَادَةً ، وَظَنَّ أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهُ حَرِيرٌ فَتَنَحَّى يَمْشِي الْقَهْقَرَى حَتَّى بَلَغَ آخِرَ السِّمَاطِ وَخَالِدٌ يُكَلِّمُ رَجُلًا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي أُمَامَةَ فَقَالَ : يَا أَخِي ؟ [ مَا ظْنَنْتَ ؟ ] أَظَنَنْتَ أَنَّهَا حَرِيرٌ ؟ فَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَسْتَمْتِعُ بِالْحَرِيرِ مَنْ يَرْجُو أَيَّامَ اللَّهِ " . ¤ فَقَالَ لَهُ خَالِدٌ : يَا أَبَا أُمَامَةَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ فَقَالَ : اللَّهُمَّ غُفْرَانَكَ ، كُنَّا فِي قَوْمٍ مَا كَذَبُوا وَلَا كُذِّبْنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
حبیب بن عبید رحبی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوامامہ ، خالد بن یزید کے پاس آئے خالد نے ان کے لئے تکیہ رکھا سیدنا ابومامہ بھی رضی اللہ عنہ نے یہ سمجھا کہ شاید یہ ریشم کا ہے ، تو وہ پیچھے ہٹے اور الٹے قدموں چلتے ہوئے صف کے آخر تک پہنچ گئے خالد اس دوران ایک شخص سے بات چیت کر رہے تھے جب انہوں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی طرف ، توجہ دی ، تو بولے : اے میرے بھائی ! آپ نے کیا گمان کیا ہے ؟ آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ ریشم ہے ؟ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اللہ کے ایام کی امید رکھتا ہو وہ ریشم سے نفع حاصل نہیں کرے گا “ تو خالد نے ان سے دریافت کیا : اے ابوامامہ ! کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! تیری مغفرت کا سوال ہے ہم ایک ایسی قوم میں تھے جو غلط بیانی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ہمیں جھٹلایا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8639
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (267/5)»
حدیث نمبر: 8640
وَعَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ قَالَ : فَحَدَّثَ الْحَسَنُ بِحَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ عُمَرَ فِي الدِّيبَاجِ فَقَالَ الْحَسَنُ : أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ لَبِنَتُهَا دِيبَاجٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَبِنَةٌ مِنْ نَارٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَأَنْكَرَ عَلَيْهِ كَثْرَةَ الْغَلَطِ وَتَمَادِيَهُ فِيهِ قَالَ أَحْمَدُ : أَمَّا أَنَا فَأُحَدِّثُ عَنْهُ وَحُدِّثْنَا عَنْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سلیمان تیمی بیان کرتے ہیں حسن نے ابوعثمان نہدی کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے دیباج کے بارے میں نقل کردہ روایت بیان کی ، تو حسن نے کہا: قبیلے کے ایک شخص نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان صاحب کے جسم پر ایک جبہ تھا جس کا ” لبنہ “ ( وہ ٹکڑا جو قمیص یا جبہ کے گریبان پر لگایا جاتا ہے ) ریشم کا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ آگ کا ” لبنہ“ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے ۔ انہوں نے اس کی بکثرت غلطیوں اور اس بارے میں اس کے حد سے بڑھنے کی وجہ سے اسے منکر قرار دیا ہے ، امام أحمد کہتے ہیں : جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میں اس سے حدیث روایت کرتا ہوں ، اور ہمیں اس کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی ہے ، اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8640
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (70/5)»
حدیث نمبر: 8641
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَاهِبًا أَهْدَى لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُبَّةَ سُنْدُسٍ فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ أَتَى الْبَيْتَ فَوَضَعَهَا ، وَحَسَّ بِوَفْدٍ أَتَوْهُ ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَنْ يَلْبَسَ الْجُبَّةَ لِقُدُومِ الْوَفْدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَصْلُحُ لَنَا لِبَاسُهَا فِي الدُّنْيَا ، وَيَصْلُحُ لَنَا فِي الْآخِرَةِ ، وَلَكِنْ خُذْهَا يَا عُمَرُ " . قَالَ : تَكْرَهُهَا وَآخُذُهَا ؟ قَالَ : " إِنِّي لَا آمُرُكَ أَنْ تَلْبَسَهَا وَلَكِنْ أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَرْضِ فَارِسَ فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا " . فَأَرْسَلَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى النَّجَاشِيِّ وَكَانَ قَدْ أَحْسَنَ إِلَى مَنْ فَرَّ إِلَيْهِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک راہب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس کا جبہ تحفے کے طور پر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ پہن لیا پھر آپ گھر تشریف لے گئے ، اور آپ نے اسے اتار دیا آپ کو ایک وفد کی آمد کے بارے میں پتہ چلا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے درخواست کی کہ آپ وہ جبہ پہن لیں کیونکہ وفد آنے والا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دنیا میں اس کو پہننا ہمارے لئے مناسب نہیں ہے آخرت میں وہ ہمارے لئے مناسب ہو گا اے عمر وہ تم لے لو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : آپ اسے ناپسند کر رہے ہیں ، تو کیا میں اسے لے لوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہیں یہ نہیں کہہ رہا کہ تم اسے پہن لو بلکہ تم اسے فارس کی سرزمین کی طرف بھیجوا دینا اور تم اس سے مال حاصل کر لینا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ نجاشی کو بھیجوا دیا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جو اس کی طرف گئے تھے ان کے ساتھ اس نے اچھا سلوک کیا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8641
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (337/3)»
حدیث نمبر: 8642
وَفِي رِوَايَةٍ : فَأَبَى عُمَرُ أَنْ يَأْخُذَهَا . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے لینے سے انکار کر دیا تھا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8642
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (347/3)»
حدیث نمبر: 8643
وَعَنْ جُوَيْرِيَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ حَرِيرٍ فِي الدُّنْيَا أَلْبَسَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَوْمًا - أَوْ ثَوْبًا - مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص دنیا میں ریشم کا کپڑا پہنے گا اللہ تعالیٰ ایک دن اسے آگ سے بنا ہوا کپڑا پہنائے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے آگ کا کپڑا پہنائے گا “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8643
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (65/24) اخرجه احمد فى المسند (324/6)»
حدیث نمبر: 8644
وَفِي رِوَايَةٍ : " مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ حَرِيرٍ فِي الدُّنْيَا أَلْبَسَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَوْبَ مَذَلَّةٍ مِنْ نَارٍ - أَوْ ثَوْبًا مِنَ النَّارِ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص دنیا میں ریشم کے کپڑے پہنے گا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن آگ سے بنا ہوا ذلت کا لباس پہنائے گا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) آگ سے بنا ہوا کپڑا پہنائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8644
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 8645
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَوْ عِمْرَانَ أَنَّهُ قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ . قُلْتُ : أَخْرَجْتُهُ لِذِكْرِ أَبِي سَعِيدٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ یا شاید سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دے کر یہ کہتا ہوں کہ آپ نے ریشم پہننے سے منع کیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے ذکر کی وجہ میں نے
یہ روایت یہاں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8645
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8646
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : مَنْ لَبِسَ ثَوْبَ حَرِيرٍ أَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبًا مِنْ نَارٍ لَيْسَ مِنْ أَيَّامِكُمْ وَلَكِنْ مِنْ أَيَّامِ اللَّهِ الطِّوَالِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ رَجَاءِ بْنِ الْجَارُودِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جو شخص ریشمی کپڑا پہنے گا اللہ تعالیٰ اسے آگ سے بنا ہوا کپڑا پہنائے گا ، اور وہ دن تمہارے دنوں کے حساب سے نہیں ہو گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے طویل دنوں کے حساب سے ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد رجاء بن جارود کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8646
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3001)»
حدیث نمبر: 8647
وَعَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي رُقَيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَمَا لَكُمْ فِي الْعَصَبِ وَالْكَتَّانِ مَا يُغْنِيكُمْ عَنِ الْحَرِيرِ ؟ وَهَذَا رَجُلٌ فِيكُمْ يُخْبِرُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُمْ يَا عُقْبَةُ ، فَقَامَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ [ وَأَنَا أَسْمَعُ ] فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . وَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا حُرِمَهُ أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ہشام بن ابورقیہ بیان کرتے ہیں : میں نے مسلمہ بن مخلد کو سنا وہ منبر پر کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دے رے تھے اور یہ کہہ رہے تھے اے لوگو ! کیا عصب اور قطان ( نامی مخصوص قسم کے دو کپڑوں ) میں وہ چیز نہیں ہے جو تمہیں ریشم سے بے نیاز کر دے یہ صاحب تمہارے درمیان موجود ہیں یہ تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک چیز بیان کریں گے اے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ آپ کھڑے ہو جائیں ، تو سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ( راوی کہتے ہیں : ) میں یہ بات خود سن رہا تھا انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے وہ جہنم میں جانے کے لئے تیار رہے “ ۔ ( سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے پھر یہ فرمایا : ) میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا وہ اس بات سے محروم رہے گا کہ آخرت میں اسے پہنے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8647
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1751) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (327/17) اخرجه احمد فى المسند (156/4)»
حدیث نمبر: 8648
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ عَلَيْهِ جُبَّةُ سِيجَانٍ مَزْرُورَةٌ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَ : أَلَا إِنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا يُرِيدُ يَضَعُ كُلَّ فَارِسٍ وَيَرْفَعُ كُلَّ رَاعٍ ابْنَ رَاعٍ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَجَامِعِ جُبَّتِهِ وَقَالَ : " لَا أَرَى عَلَيْكَ لِبَاسَ مَنْ لَا يَعْقِلُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي وَصِيَّةِ نُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک دیہاتی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے جسم پر سیجان کا جبہ تھا جو دیباج سے آراستہ تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارا یہ ساتھی یہ چاہتا ہے کہ ہر شہسوار کو پست کر دے اور ہر چرواہے کو بلند کر دے جو چرواہے کا بیٹا ہو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے جبہ کے گریبان کو پکڑا اور فرمایا : میں تم پر اس شخص کا لباس نہ دیکھوں جس کو عقل نہیں ہوتی ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں ذکر کی ہے جو اس سے پہلے سیدنا نوح علیہ السلام کی وصیت سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8648
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2998) اخرجه احمد فى المسند (225/2)»
حدیث نمبر: 8649
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8649
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9779)»
حدیث نمبر: 8650
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ وَالْقَزِّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم اور قز ( ریشم کی ایک قسم ) سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8650
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3000)»
حدیث نمبر: 8651
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ جُبَّةُ سُنْدُسٍ فَمَا رَأَيْنَا مُنْذُ زَمَانٍ أَجْمَلَ مِنْهُ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، فَقَامَ فَزِعًا فَنَزَعَهَا ثُمَّ خَرَجَ فِي بُرْدِ حِبَرَةٍ فَقَالَ : " الْحَرِيرُ لِبَاسُ أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ بَكْرِ بْنِ دَابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے جسم پر سندس کا جبہ موجود تھا ہم نے ایک طویل عرصے سے اس سے زیادہ خوبصورت لباس نہیں دیکھا تھا ، پھر آپ پریشانی کے عالم میں کھڑے ہوئے پھر آپ نے اسے اتار دیا پھر آپ حبرہ کی چادر پہن کر تشریف لائے ، اور ارشاد فرمایا : ” ریشیم اہل جنت کا لباس ہے جو شخص دنیا میں اسے پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہنے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن بکر بن داب ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8651
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 8652
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : رَأَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُبَّةً مَحْبِيَّةً بِحَرِيرٍ فَقَالَ : " طَوْقٌ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم لگا ہوا جبہ دیکھا ، تو ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن ، یہ آگ کا طوق ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اور معجم کبیر میں س کی ماند نقل کی ہے ۔ اور یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ امام بزار کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8652
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (2999) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (118/20)»
حدیث نمبر: 8653
وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُهْدِيَتْ لَهُ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَى عَلِيٍّ فَرَاحَ وَهِيَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا أَرْضَى لَكَ مَا لَا أَرْضَى لِنَفْسِي ، إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا كَسَوْتُكَهَا لِتَجْعَلَهَا خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سیرائی حلہ تحفے کے طور پر دیا گیا وہ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، تو انہوں نے وہ حلہ پہنا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس چیز سے میں اپنی لئے راضی نہیں ہوں اس سے میں تمہارے لئے بھی راضی نہیں ہوں گا یہ میں نے تمہیں اس لئے نہیں دیا تھا کہ تم اسے پہن لو یہ میں نے تمہیں اس لئے دیا تھا تاکہ تم فاطمہ نامی خواتین کو اس کی چادریں بنوا دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8653
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (437/24)»
حدیث نمبر: 8654
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ قَالَا : أُتِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحُلَلٍ فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ ، فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا عَلَى بَدَنِهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ الْحُلَّةِ الْحَرِيرِ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ؟ فَقَالَ : " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا وَلَكِنْ بِعْهَا وَاسْتَنْفِعْ بِثَمَنِهَا " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنُ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِنَحْوِهِ وَحَدِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعِبْرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حلے لائے گئے آپ نے ایک حلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجوا دیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ حلہ لائے انہوں نے اسے اٹھایا ہوا تھا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے یہ ریشمی حلہ میری طرف بھیجوا دیا ہے ، جبکہ ریشم کے بارے میں آپ پہلے یہ بات ارشاد فرما چکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ میں نے تمہاری طرف اس لئے نہیں بھیجوایا ہے کہ تم اسے پہن لو بلکہ تم اسے فروخت کرو اور اس کی قیمت کے ذریعے نفع حاصل کرو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : صحیح میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی مانند روایت منقول ہے ، اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کو امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن عبیداللہ عبری ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8654
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8655
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ حَرِيرًا وَلَا ذَهَبًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، وہ ریشم اور سونا نہ پہنے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8655
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8656
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الدُّنْيَا تُفْتَحُ عَلَيْكُمْ فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا يَلْبَسُونَ إِلَّا الدِّيبَاجَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قحط سالی نے ہمیں کھا لیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم پر دنیا کشادہ کر دی جائے گی اور افسوس کہ میری امت اس وقت صرف دیباج پہنے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن معتب ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8656
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 8657
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنْ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ فَقَالَ : " غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ ، أَنْ تُصَبَّ الدُّنْيَا عَلَى أُمَّتِي صَبًّا فَلَيْتَ أُمَّتِي لَا يَلْبَسُونَ الْحَرِيرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَالْمَسْعُودِيُّ اخْتَلَطَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قحط سالی نے ہمیں کھا لیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے علاوہ کے حوالے سے مجھے تم لوگوں کے بارے میں خوف ہے اور وہ یہ کہ میری امت پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا ، اور افسوس کہ میری امت صرف ریشم پہنے گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اور ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8657
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 8658
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفِي يَدِهِ صُرَّتَانِ إِحْدَاهُمَا مِنْ ذَهَبٍ وَالْأُخْرَى مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ : " هَذَانِ حَرَامٌ عَلَى الذُّكُورِ مِنْ أُمَّتِي حَلَالٌ لِلْإِنَاثِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ جَرِيرٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ کے دست مبارک میں دو تھیلیاں تھیں ان میں سے ایک میں سونا تھا ، اور دوسرے میں ریشم تھا آپ نے فرمایا : یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور خواتین کے لئے حلال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن جریر ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8658
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3005)»
حدیث نمبر: 8659
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخْرَجَ فِي يَدِهِ قِطْعَةً مِنْ ذَهَبٍ وَقِطْعَةً مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ : " إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي وَحَلَالٌ لِإِنَاثِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ : صَدُوقٌ يَهِمُ ، وَفِي الْآخَرِ إِسْلَامٌ الطَّوِيلُ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک میں سونے کا ایک ٹکڑا اور ریشم کا ایک ٹکڑا نکالا اور ارشاد فرمایا : یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور ان کی خواتین کے لیے حلال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ضعیف ہے اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے یہ صدوق ہے ، لیکن وہم کا شکار ہو جاتا ہے ، اور دوسری روایت میں ایک راوی اسلام طویل ہے ، اور وہ متروک ہے ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8659
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3006) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط“ (405) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10889,11333)»
حدیث نمبر: 8660
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ حِلٌّ لِإِنَاثِ أُمَّتِي وَحَرَامٌ عَلَى ذُكُورِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ثَابِتُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سونا اور ریشم میری امت کی خواتین کے لئے حلال ہیں اور اس ( یعنی میری اُمت ) کے مردوں پر حرام ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ثابت بن زید بن ارقم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8660
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5125)»
حدیث نمبر: 8661
وَعَنْ عُثْمَانَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا قَدْرَ إِصْبَعَيْنِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم سے منع کیا ہے ، البتہ دو انگلیوں جتنے کا معاملہ مختلف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8661
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3004)»
حدیث نمبر: 8662
وَعَنْ أَمَةِ اللَّهِ بِنْتِ مَذْعُورٍ ، عَنْ أُمِّهَا قَالَتْ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ فَقَالَتْ : كُنَّا نَلْبَسُ مِثْلَ هَذَا الثَّوْبِ - لِثَوْبٍ عَلَيْهَا فِيهِ عَلَمٌ حَرِيرٌ - عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَمَةُ اللَّهِ وَأَمُّهَا لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
امتہ اللہ بنت مذعور ، اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتی ہیں : میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ ایک قمیص اور چادر میں نماز ادا کر رہی تھیں میں نے ان سے کپڑوں میں موجود نشانات ( یعنی کشیدہ کاری ) کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہم خواتین اس طرح کے کپڑے پہن لیا کرتی تھیں انہوں نے اپنے جسم پر موجود کپڑے کے بارے میں یہ بات کہی ، جس میں ریشم کی کشیدہ کاری تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امتہ اللہ نامی خاتون اور اس کی والدہ ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8662
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (419/23)»