کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جوتا پہننے اور موزے پہننے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 8618
عَنْ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنِ الْأَعْرَابِيِّ أَنَّ نَعْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَتْ مَخْصُوفَةً . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن شخیر ایک دیہاتی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے گانٹھے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 8619
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ لِنَعْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِبَالَانِ وَلِنَعْلِ أَبِي بَكْرٍ قِبَالَانِ وَلِنَعْلِ عُمَرَ قِبَالَانِ وَأَوَّلُ مَنْ عَقَدَ عُقْدَةً وَاحِدَةً عُثْمَانُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتوں میں سے ( ہر جوتے ) کے دو تسمے ہوتے تھے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے جوتے کے بھی دو تسمے ہوتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے جوتے کے بھی دو تسمے ہوتے تھے سب سے پہلے ایک گرہ لگانے والے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8620
وَعَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَتْ : كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعْلٌ لَهَا خَنْصَرَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَقَدْ سَقَطَ مِنْ سَنَدِهِ رَاوِيَانِ بَعْدَ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیده ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کا تسمہ ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں دو راوی ساقط ہیں جو زبیر بن بکار کے بعد ہیں باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں دو راوی ساقط ہیں جو زبیر بن بکار کے بعد ہیں باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حدیث نمبر: 8621
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍ[ و ] قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَكْثِرُوا النِّعَالَ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا دَامَ نَاعِلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زیادہ تر جوتا استعمال کیا کرو کیونکہ تم میں سے جو شخص جوتا پہنے ہوئے ہوتا ہے وہ مسلسل سوار ( کی طرح آرام دہ حالت میں ) ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8622
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا كَانَ مُنْتَعِلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ أَحْمَدُ : لَا بَأْسَ بِهِ فِي نَفْسِهِ . وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : هُوَ مِمَّنْ يُحْتَمَلُ وَيُكْتَبُ حَدِيثُهُ . وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کثرت سے جوتے استعمال کرو ( یعنی زیادہ تر جوتا استعمال کیا کرو ) کیونکہ تم میں سے کوئی ایک شخص جب تک جوتا پہنے ہوئے ہوتا ہے وہ مسلسل سوار کی طرح ( آرام دہ حالت میں ) ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن زبیر ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : اس کی ذات میں کوئی حرج نہیں ہے ابن عدی کہتے ہیں : یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جن سے علم حاصل کیا جائے ، اور جن کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن زبیر ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : اس کی ذات میں کوئی حرج نہیں ہے ابن عدی کہتے ہیں : یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جن سے علم حاصل کیا جائے ، اور جن کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8623
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمِرْتُ بِالنَّعْلَيْنِ وَالْخَاتَمِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے جوتا اور انگوٹھی ( پہننے ) کا حکم دیا گیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8624
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " قَابِلُوا النِّعَالَ " . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن مسلم بن ہرمز بن یحیی بن عبید بن عطاء اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جوتوں کے تسمے رکھو “ ۔
حدیث نمبر: 8625
وَفِي رِوَايَةٍ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى يُكَلِّمُ النَّاسَ يَقُولُ لَهُمْ : " قَابِلُوا النِّعَالَ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ . وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُرْمُزَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اہل طائف سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منی میں لوگوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سنا آپ نے ارشاد فرمایا : اپنے جوتوں کے تسمے رکھو ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور عبداللہ بن ہرمز نامی راوی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 8626
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : مَنْ لَبِسَ نَعْلًا صَفْرَاءَ لَمْ يَزَلْ يَرَى سُرُورًا مَا دَامَ لَابِسَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ الْعَذْرَاءِ غَيْرُ مُسَمًّى وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جو شخص زرد ( یا پیلا ) جوتا پہنتا ہے وہ جب تک اسے پہنے رکھتا ہے مسلسل سرور کے عالم کو محسوس کرتا ہے ( یا جب تک وہ اس کو پہنے رکھے گا خوشی کے عالم میں رہے گا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن عذراء ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن عذراء ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8627
وَعَنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ قَالَ : أَهْدَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُبَّةَ صُوفٍ وَخُفَّيْنِ فَلَبِسَهُمَا حَتَّى تَخَرَّقَا وَلَمْ يَسْأَلْ [ عَنْهُمَا ] ذَكَّيْنَاهُمَا أَمْ لَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُيَيْنَةُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، وَعَنْهُ يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونی جبہ اور دو موزے تحفے کے طور پر پیش کیے آپ نے انہیں اس وقت تک پہنے رکھا جب تک وہ پھٹ نہیں گئے آپ نے ان دونوں کے بارے میں یہ دریافت نہیں کیا کہ ( جس جانور کے چمڑے سے وہ بنے تھے ) ہم نے اسے ذبح کیا تھا یا نہیں کیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیینہ بن سعد ہے ، جس نے امام شعبی سے روایت نقل کی ہے ۔ اور اس سے یحیی بن ضریس نے روایت نقل کی ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیینہ بن سعد ہے ، جس نے امام شعبی سے روایت نقل کی ہے ۔ اور اس سے یحیی بن ضریس نے روایت نقل کی ہے ۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 8628
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا تَخَفَّفَتْ أُمَّتِي بِالْخِفَافِ ذَاتِ الْمَنَاقِبِ - الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ - وَخَصَفُوا نِعَالَهُمْ تَخَلَّى اللَّهُ عَنْهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب میری امت کے مرد اور خواتین موزے پہنیں اور اپنے جوتوں کو گانٹھ لیں ، تو اللہ تعالیٰ انہیں چھوڑے رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبداللہ شامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبداللہ شامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔