کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: عورتوں کا لباس
حدیث نمبر: 8611
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قِبْطِيَّةً كَثِيفَةً مِمَّا أَهْدَاهَا لَهُ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ فَكَسَوْتُهَا امْرَأَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا لَكَ لَمْ تَلْبَسِ الْقِبْطِيَّةَ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتُهَا امْرَأَتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مُرْهَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَهَا غِلَالَةً ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ تَصِفَ حَجْمَ عِظَامِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک موٹا قبطی کپڑا پہننے کے لئے دیا ، جو دحیہ کلبی نے آپ کو تحفے کے طو پر دیا تھا ، وہ میں نے اپنی بیوی کو پہننے کے لئے دیدیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا وجہ ہے تم نے قبطی کپڑا کیوں نہیں پہنا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نے وہ اپنی بیوی کو پہننے کے لئے دیدیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اسے یہ ہدایت کرو کہ وہ اس کے نیچے اور کپڑا لگا لے کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس کپڑے میں اس کی جسامت ظاہر ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8611
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (376) اخرجه احمد فى المسند (205/5)»
حدیث نمبر: 8612
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى سُرُوجٍ كَأَشْبَاهِ الرِّحَالِ يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ ، نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ عَلَى رُءُوسِهِمْ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ [ الْعِجَافِ ] ، الْعَنُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ مَلْعُونَاتٌ ، لَوْ كَانَتْ وَرَاءَكُمْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَخَدَمْنَ نِسَاؤُكُمْ نِسَاءَهُمْ كَمَا خَدَمَتْكُمْ نِسَاءُ الْأُمَمِ مِنْ قَبْلِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ : " سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي رِجَالٌ يُرْكِبُونَ نِسَاءَهُمْ عَلَى سُرُوجٍ كَأَشْبَاهِ الرِّحَالِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” عنقریب میری امت کے آخری دور میں کچھ ایسے افراد ہوں گے ، جو ” زین “ پر سوار ہوں گے ، جو پالانوں کی مانند ہوں گی ، وہ مساجد کے دروازے پر اتریں گے ، ان کی عورتیں لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی اور ان کے سروں پر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح کی چوٹیاں ہوں گی تم ان عورتوں پر لعنت کرنا کیونکہ وہ لعنت یافتہ ہوں گی اگر ان کے علاوہ کوئی اور امت بھی ہوتی ، تو تمہاری عورتوں نے ان کی عورتوں کی خدمت کرنی تھی جس طرح تم سے پہلے کی امتوں کی عورتوں نے تمہاری خدمت کی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” عنقریب میری امت میں ایسے افراد ہوں گے ، جو اپنی بیویوں کو زین پر یوں سوار کروائیں گے ، جس طرح وہ پالان ہیں “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8612
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (7083)»
حدیث نمبر: 8613
وَعَنْ أَبِي شُقْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّاتِي أَلْقَيْنَ عَلَى رُءُوسِهِنَّ مِثْلَ أَسْنِمَةِ الْبَقَرِ فَأَعْلِمُوهُنَّ أَنَّهُ لَا تُقْبَلُ لَهُنَّ صَلَاةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ مَخْلَدِ بْنِ عُقْبَةَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوشقرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم ان عورتوں کو دیکھو جو اپنے سروں پر گائے کی کوہان کی طرح کی چوٹیاں بنائیں گی ، تو تم انہیں بتا دینا کہ ان عورتوں کی نماز قبول نہیں ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے اسے حماد بن یزید نے مخلد بن عقبہ سے نقل کیا ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8613
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (1125)»
حدیث نمبر: 8614
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ أَنَّهَا قَالَتْ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا عَلَى عَائِشَةَ ، وَعِنْدَهَا أُخْتُهَا أَسْمَاءُ ، وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ سَابِغَةٌ وَاسِعَةٌ الْأَكِمَّةِ ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فَخَرَجَ ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : تَنَحَّيْ فَقَدْ رَأَى مِنْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْرًا كَرِهَهُ ، فَتَنَحَّتْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ لِمَ قَامَ ؟ فَقَالَ : " أَلَمْ تَرَيْ إِلَى هَنَاتِهَا إِنَّهُ لَيْسَ لِلْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ أَنْ يَبْدُوَ مِنْهَا إِلَّا هَكَذَا " وَأَخَذَ كُمَّيْهِ فَغَطَّى بِهِمَا ظَهْرَ كَفَّيْهِ حَتَّى لَمْ يَبْدُ مِنْ كَفَّيْهِ إِلَّا أَصَابِعُهُ ثُمَّ نَصَبَ كَفَّيْهِ عَلَى صُدْغَيْهِ حَتَّى لَمْ يَبْدُ إِلَّا وَجْهُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " ثِيَابٌ شَامِيَّةٌ " بَدَلَ : " سَابِغَةٍ " . ¤ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اس وقت ان کی بہن سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں اور انہوں نے کھلا کپڑا پہنا ہوا تھا جس کی آستین بھی کھلی تھیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو آپ اٹھے اور تشریف لے گئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: تم یہاں سے اٹھ جاؤ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری طرف سے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جو آپ کو ناگوار گزری ہے وہ ہٹ گئیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے دریافت کیا : آپ کیوں اٹھ گئے تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اس بھولی خاتون کی طرف نہیں دیکھا کسی مسلمان عورت کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اس کے جسم میں سے کچھ بھی ظاہر ہو البتہ اتنے کا معاملہ مختلف ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آستینیں پکڑ کر ان کے ذریعے اپنی ہتھیلی کی پشت کو ڈھانپ لیا یہاں تک کہ ہتھیلی میں سے صرف انگلیاں ظاہر ہو رہی تھیں پھر آپ نے اپنی ہتھیلیاں اپنی کنپٹیوں پر رکھیں یہاں تک کہ صرف چہرہ ظاہر ہو رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : شامی کپڑے ، انہوں نے لفظ ” بڑے “ کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8614
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (142/24)»
حدیث نمبر: 8615
وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْوَلِيدِ أَنَّهَا كَانَتْ بِالشَّامِ تَلْبَسُ الثِّيَابَ مِنْ ثِيَابِ الْخَزِّ ثُمَّ تَأْتَزِرُ فَقِيلَ لَهَا : أَمَا يُغْنِيكَ هَذَا عَنِ الْإِزَارِ ؟ فَقَالَتْ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُ بِالْإِزَارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ بنت ولید رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب وہ شام میں تھیں ، تو وہ خز ( یعنی ریشم ، یا ریشم اور اون سے بنے ہوئے کپڑے ) کا لباس پہنتی تھیں اور اس کا تہبند باندھ لیتی تھیں ان سے کہا: گیا : کیا یہ لباس آپ کو تہبند سے بے نیاز نہیں کر دیتا ؟ انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تہبند کا باندھنے کا حکم دیتے ہوئے سنا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8615
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (362/24)»
حدیث نمبر: 8616
وَعَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَعْرُوا النِّسَاءَ يَلْزَمْنَ الْحِجَالَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَفِيهِ مَجْمَعُ بْنُ كَعْبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عورتوں کو ( باہر نکلنے کا ) لباس فراہم نہ کرو وہ گھروں میں رہیں گی “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجمع بن کعب ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8616
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (438/19)»
حدیث نمبر: 8617
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اسْتَعِينُوا عَلَى النِّسَاءِ بِالْعُرْيِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مُوسَى بْنِ زَكَرِيَّا ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ( باہر نکلنے کا ) لباس فراہم نہ کر کے ، خواتین کے حوالے سے مدد حاصل کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد موسیٰ بن زکریا سے نقل کی ہے ۔ اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب اللباس / حدیث: 8617
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف